بوسہ (French kiss) سے قضا اور کفارہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #211Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (٤): قضا اور کفارہ کا بیان

Question

اگر کسی نے رمضان میں روزہ کی حالت میں ایک عورت کو بوسہ دیا تو کیا قضا لازم ہے یا کفارہ بھی؟ اور بوسہ سے (French kiss) مراد ہے یعنی "
إدخال اللسان في فم الغير مع ابتلاع بزاق الغير"
عامۃً اس طریقہ پر ہوتا ہے کہ زبان کو چوسا جاتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے کا لعاب حلق سے نیچے اتر جاتا ہے ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں بوسہ سے لعاب حلق سے نیچے نہ اترا ہو اور نہ انزال ہوا ہو تو یہ مکروہ ہے، اور اگر انزال ہو گیا تو قضا واجب ہے، اور اگر بیوی کا تھوک بھی حلق سے نیچے اتر گیا تو قضا اور کفارہ دونوں واجب ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو ۔
شامی میں ہے:

(قوله وكره قبلة الخ) جزم في السراج بأن القبلة الفاحشة بأن يمضغ شفتيها تكره على الإطلاق أي سواء أمن أو لا. (رد المحتار: ۲/ ٤۱۷، سعيد، وهكذا في الفتاوى الهندية: ۱/ ۲۰۰).

البحر الرائق میں ہے:

لو ابتلع الصائم ريق غيره فإن كان بزاق صديقه يجب عليه الكفارة وإن لم يكن صديقه يجب عليه القضاء دون الكفارة لأن الريق تعافه النفس وتستقذره إذا كان من غير صديقه فصار كالعجين ونحوه مما تعافه النفس وإن كان من صديقه لا تعافه فصار كالخبز ونحو ذلك مما تشتهيه النفس. (البحر الرائق: ۸/٤۸۰، مسائل شتى، كوئته، وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/ ۲۰۳، والشامي ۲/۰۱٤).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر کوئی روزہ دار آدمی اپنے دوست یا اپنی بیوی کا لعاب یا تھوک نگل گیا تو اس کی وجہ سے قضاء بھی لازم ہو گی اور کفارہ بھی لازم ہوگا ۔
ومنه ابتلاع بزاق زوجته أو صديقه لأنه يتلذذ به ولا تلزم الكفارة ببزاق غيرهما لأنه يعافه. مراقي الفلاح. (
فتاوی محمودیہ: ۱۰/۱۷۱، باب قضاء الصوم، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.