رمضان کا قضا روزہ توڑنے پر کفارہ کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی نے رمضان شریف کا قضا روزہ شوال میں رکھا اور طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے توڑ دیا، تو اب اس پر کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟
Answer
رمضان المبارک کے ادا روزہ کے علاوہ کوئی اور روزہ توڑنے پر کفارہ واجب نہیں ہوتا فقط قضا واجب ہوتی ہے ۔
قال في البحر الرائق: وبإفساد صوم غير رمضان أي لا كفارة في إفساد صوم غير أداء رمضان لأن الإفطار في رمضان أبلغ في الجناية لهتك حرمة الشهر فلا يلحق به غيره لا قياساً إذ هو ممتنع لكونه على خلاف القياس ولا دلالة لأن إفساد غيره ليس في معناه. (البحر الرائق: ۲/۲۷۸).
وقال في الفتاوى السراجية: إذا أفطر في صوم القضاء لا كفارة عليه. (الفتاوى السراجية، ص۱٦۸). (وكذا في فتح القدير: ۲/۳٤۱، وفتاوى الشامي: ۲/٤۰٤، سعيد).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
رمضان کے ادا روزہ کے علاوہ اور کسی قسم کا روزہ توڑ دینے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا اور رمضان کا قضا روزہ توڑنے سے بھی کفارہ واجب نہیں ہوتا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۲۸٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.