نسیاناً جماع کرنے کے بعد عمداً روزہ توڑنے پر کفارہ کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #494Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

اگر کسی نے روزہ میں نسیاناً جماع کیا اور اس کو مسئلہ معلوم تھا کہ اس طرح کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا پھر اس نے عمداً افطاری کر لی تو قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
دین کی باتیں میں لکھا ہے: اگر مسئلہ جانتا ہو اور پھر بھول کر ایسا کرنے کے بعد عمداً افطار کر دے تو جماع کی صورت میں کفارہ بھی لازم ہوگا اور کھانے کی صورت میں صرف قضا ہے ۔ (دین کی باتیں، ص۲۱٦)،
کیا اس طرح کا فرق ہے یا کھانے پینے اور جماع سب کا ایک ہی حکم ہے؟ ہدایہ میں صرف کھانے کے بارے میں لکھا ہے کہ کفارہ لازم نہ ہوگا:
ومن أكل في رمضان ناسياً وظن أن ذلك يفطره فأكل بعد ذلك متعمداً عليه القضاء دون الكفارة، لأن الاشتباه استند إلى القياس فتحقق الشبهة وإن بلغه الحديث وعلمه فكذلك في ظاهر الرواية، وعن أبي حنيفة رحمه الله أنها تجب وكذا عنهما لأنه لا اشتباه فلا شبهة، وجه الأول قيام الشبهة الحكمية بالنظر إلى القياس فلا ينتفي بالعلم كوطء الأب جارية ابنه. (الهداية: ۱/۲۲٦).
بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ نسیاناً کھانے، پینے اور جماع کے بعد عمداً ان افعال کو کرنے سے فقط قضا واجب ہو گی کفارہ واجب نہیں ہوگا، اور تینوں میں کوئی فرق نہیں ہے، کیوں کہ اس مسئلہ کی نظیر کو دیکھ شبہ پیدا ہو گیا، اور کفارہ شبہات سے ساقط ہو جاتا ہے ۔
ولأن الكفارة تندرئ بالشبهات. (البناية: ٤/۵۳).

نظیر اس کی یہ ہے کہ یہ افعال روزہ کے منافی ہیں اور عمداً کرنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے تو سہواً کرنے سے بھی فاسد سمجھا گیا، نیز امام مالک رحمه الله کے نزدیک سہواً کھانے سے بھی روزہ فاسد ہو جاتا ہے، اور مسئلہ معلوم ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق مرتب نہیں ہوگا ۔ جیسا کہ باپ نے بیٹے کی باندی سے ہم بستری کر لی تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، چاہے اس کو باندی کے حرام ہونے کا مسئلہ معلوم ہو یا نہ ہو ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:

أو أكل أو جامع ناسياً

فظن أنه أفطر فأكل عمداً للشبهة ولو علم عدم فطره لزمته الكفارة إلا في مسألة المتن فلا كفارة مطلقاً على المذهب لشبهة خلاف مالك خلافاً لهما كما في المجمع وشروحه فقيد الظن إنما هو لبيان الاتفاق وفي الشامي: لأنه ظن في موضع الاشتباه بالنظير، وهو الأكل عمداً لأن الأكل مضاد للصوم ساهياً أو عامداً فأورث شبهة وكذا فيه شبهة اختلاف العلماء، فإن مالكاً يقول: بفساد صوم من أكل ناسياً وأطلقه فشمل ما لو علم أنه لم يفطره بأن بلغه الحديث أو الفتوى أو لا، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وهو الصحيح

قوله إلا في مسألة المتن، وهي ما لو أكل وكذا لو جامع أو شرب، لأن علة عدم الكفارة خلاف مالك رحمه الله وخلافه في الأكل والشرب والجماع كما في الزيلعي والهداية وغيرهما. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۰۲، سعيد).
المحيط البرهاني
میں مرقوم ہے:

قال محمد رحمه الله: في الجامع الصغير: إذا أكل أو شرب أو جامع في نهار رمضان ناسياً، وظن أن ذلك يفطره، فأكل بعد ذلك متعمداً، فلا كفارة عليه، وإنما لم تجب الكفارة لمكان الشبهة، والشبهة نوعان: شبهة اشتباه بالنظير، وهو أن يجد لما ظن، واشتبه عليه نظير أو شبهة حكمية، وقد وجد لما اشتبه نظيراً، وهو الأكل حالة العمد، لأن أكل الناسي ينافي الإمساك في الظاهر كأكل العامد، وكذلك وجدت الشبهة الحكمية، فإن الصوم قد فسد بالأكل الأول عند أهل المدينة، وأنه قياس غير مهجور، فصار شبهة في الاستحسان. وعن أبي حنيفة رحمه الله: أنه إن بلغه الحديث لزمه الكفارة؛ لأنه علم أن القياس متروك، فلا يعتبر القياس سبباً للشبهة في حقه، وفي رواية أخري عنه لا تلزمه الكفارة على كل حال، وهو الصحيح. (المحيط البرهاني: ۲/۳۹۷).

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
اگر کسی نے بھول کر کچھ کھایا یا پیا یا مجامعت کی اور اس کو یہ گمان ہوا کہ اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا پھر اس نے عمداً کھا لیا تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا یعنی صرف قضا لازم ہو گی اور اگر وہ جانتا ہے کہ بھول کر کھانے پینے وغیرہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا تب بھی امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک کفارہ لازم نہیں ہوگا یہی صحیح ہے ۔ اور یہی ظاہر الروایہ ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۳۲۰) ۔

وللاستزادة راجع: (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۹، والبناية في شرح الهداية: ۲/۱۰۸، وبدائع الصنائع: ۲/ ۱۰۰، سعيد، وعمدة الفقه: ۳/۳۲۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.