جہالت کی وجہ سے رمضان کا فرض روزہ توڑنے سے کفارہ کا حکم:
Question
ایک شخص رمضان میں جان بوجھ کر روزے توڑتا تھا، لیکن اس کو یہ علم نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے کفارہ لازم آتا ہے، اب جب علم ہوا تو کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
Answer
عدمِ علم شرعاً معتبر عذر نہیں ہے، لہٰذا قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا لازم ہوگا ۔ کفارہ یہ ہے ساٹھ دن تک مسلسل روزے رکھے، اور جو شخص روزے پر قادر نہ ہو تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھائے ۔
ملاحظہ ہو جوہرہ میں مرقوم ہے:
من جامع عامداً في أحد السبيلين أو أكل أو شرب ما يتغذى به أو يتداوى به فعليه القضاء والكفارة لأن الجناية متكاملة لقضاء الشهوة
قوله والكفارة مثل كفارة الظهارة. (الجوهرة النيرة: ۱/۱۷۲، ط: إمداديه ملتان).
وفي الاختيار لتعليل المختار: أكل أو شرب عامداً غذاء أو دواء وهو صائم في رمضان عليه القضاء والكفارة مثل المظاهر. (الاختيار: ۱/۱۳۹، كتاب الصوم، ط: بيروت).
مزید ملاحظہ ہو : (
الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۵، والبناية: ۳/٦٦۵).
جہاں اسلام متعارف ہو اور مسلمانوں کی بستیاں موجود ہوں وہاں احکامِ شرعیہ سے جہل عذر نہیں ۔ ملاحظہ ہو :
قال في الأشباه: الجهل في دار الحرب من مسلم لم يهاجر، وأنه يكون عذراً
وفي حاشية الحموي: قال: بخلاف الذمي إذا أسلم في دار الإسلام لشيوع الأحكام، والتمكن من السؤال. (الأشباه مع الحموي: ۳/۱۳، الفن الثالث، ط: إدارة القرآن).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر کسی نے پچھنے لگوائے یا کسی کی غیبت کی پھر گمان کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہے پھر اس نے عمداً کھا لیا اگر اس نے کسی فقیہ سے فتوی نہیں لیا اور نہ اس کو حدیث پہنچی تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے کیوں کہ یہ محض جہالت ہے اس کے پاس اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے اور جہالت دار الاسلام میں عذر نہیں بنتی ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۳۲۱) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
رمضان مبارک کا روزہ جان بوجھ کر توڑ دینے پر کفارہ لازم ہے، اور وہ ہے ساٹھ دن کے لگاتار روزے رکھنا، اور جو شخص روزے رکھنے پر قادر نہ ہو، وہ ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھـلائے، اور کسی شخص کو مسئلہ کا علم نہ ہونا کوئی عذر نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/٦۰۹، طبع جدید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.