رمضان میں ڈائلیسس کی وجہ سے روزہ کا حکم:

11 min readFatwa Vol 3 #482Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

اگر مریض آدمی رمضان میں خون کی صفائی کرائے جس کو ڈائلیسس (dialysis) کہتے ہیں، تو اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہو جائے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

فسادِ صوم کے لیے ضروری ہے کہ مفطرات میں کوئی شئی منفذ اصلی کے ذریعہ جوفِ معدہ یا جوفِ دماغ تک پہنچ جائے لیکن بصورتِ مسئولہ ڈائلیسس میں رگوں کے خون کی صفائی ہوتی ہے یعنی رگوں سے خون مشین میں منتقل ہو کر صاف ہو کر دوبارہ رگوں میں داخل ہو جاتا ہے، بنا بریں روزہ فاسد ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
ڈائلیسس کی حقیقت اور اس کی اقسام ملاحظہ کیجیے:
انسان کا گر دہ جب بے کار ہو جاتا ہے تو اس وقت مصنوعی مشین کے ذریعہ خون کی صفائی کا کام انجام دیا جاتا ہے اس کو ڈائلیسس کہا جاتا ہے ۔
ڈائلیسس کی دو قسمیں ہیں:
(۱) ہیمو ڈائلیسس (Hemodialysis) اس میں مریض کا خون اس کے جسم سے باہر گردش کرتا ہے، پہلے آپریشن کے ذریعہ ایک نلکی جسم کی رگوں میں داخل کی جاتی ہے، اس نلکی کے ذریعہ جسم کا خون باہر مشین میں منتقل ہوتا ہے اور مشین میں جا کر ایک خاص قسم کے فلٹر سے صاف ہو کر دوسری نلکی سے جسم میں دوبارہ داخل ہو جاتا ہے، گویا مشین گردہ کا کام کرتی ہے یعنی خون کے فاسد اور خراب مادوں کو نکال دیتی ہے، اس عمل کو "ہیمو ڈائلیسس کہتے ہیں ۔ عام طور پر یہی طریقہ رائج ہے ۔
(۲) پیریٹونیل ڈائلیسس (Peritoneal Dialysis) جراثیم کی صفائی کے لیے سیال دوائی [جو گلوکوز یا دوسری چیزوں کی شکل میں ہوتی ہے ]کو انسان کے جسم میں پیڑوکی جھلی سے نلکی کی مدد سے پیٹ کے اس جوف میں داخل کیا جاتا ہے، جو معدہ اور آنت کے پاس ہوتا ہے، یہ جوف فلٹر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس طور پر کہ سیال دوائیں اس جوف میں کچھ دیر رہ کر خراب مادوں کو جذب کر لیتی ہیں اور پھر دوسری نلکی کے ذریعہ خراب خون کے ساتھ باہر نکال دی جاتی ہیں، اس طریقہ کار کو "پیریٹونیل ڈائلیسس کہتے ہیں ۔
(ماخوذ از انٹرنیٹ "میدیکل نیوز ٹوڈے"، ویپ سائٹ "What is Dialysis" کے نام سے ایک مقالہ ایک ڈاکٹر "Christian Nordqvist" کی نگرانی میں ۲۹/جون ۲۰۱۵؁ء میں شائع ہوا ہے) ۔
فسادِ صوم کے لیے جوفِ بطن میں کسی چیز کا داخل ہونا شرط ہے ۔
جوفِ بطن کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
انسان کے پیٹ میں دو قسم کے جوف ہیں: (۱) معدے اور آنتوں کا جوف اس کو انگریزی میں المِ نٹری کینال (Alimentary canal) کہتے ہیں ۔
(۲) وہ جوف جو سینے کے نیچے ہوتا ہے اور اس میں معدہ، آنتیں قائم رہتی ہیں یعنی معدے وغیرہ کے اطراف والا جوف، اس کو انگریزی میں ابڈامینل کیویٹی (Abdominal cavity) کہتے ہیں ۔
اب فسادِ صوم کے لیے کون سے جوف میں داخل ہونا مراد ہے اس کی وضاحت ڈاکٹر مفتی عبد الواحد فرماتے ہیں:
اس جوف (یعنی جوفِ بطن) سے مراد معدے اور آنتوں کا جوف (Alimentary canal) ہے، اگر چہ بطن کا اطلاق اس جوف پر بھی ہوتا ہے جو سینے سے نیچے ہوتا ہے اور جس میں اعضائے رئیسہ مثلاً: معدہ، آنتیں، مثانہ، رحم، گردے وغیرہ قائم ہوتے ہیں یعنی وہ جوف جس کو (Abdominal cavity) کہتے ہیں، لیکن یہاں وہ مراد نہیں ہے ۔ اس پر اگر چہ کوئی تصریح نظر سے نہیں گزری لیکن اول یعنی المِ نٹری کینال (Alimentary canal) مراد لینے کی تائید مندرجہ ذیل عبارات سے ہوتی ہے:

(
۱
) أما الحقنة والوجور فلأنه وصل إلى الجوف ما فيه صلاح البدن. (فتاوى قاضي خان على هامش الهندية: ۱/۲۱۰). (
حقنہ کرنے اور منہ میں قطرے ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کیوں کہ جوف میں ایسی چیز پہنچی ہے جو مفیدِ بطن ہے) ۔

(
۲
) وما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه. (بدائع الصنائع: ۲/۹۳). (
جوفِ بطن یا جوفِ دماغ میں ناک، کان اور مقعد جیسے قدرتی سوراخوں سے کوئی چیز پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے) ۔

(
۳
) ولو أقطر في إحليله لم يفطر عند أبي حنيفة رحمه الله وقال أبو يوسف رحمه الله يفطر

فكأنه وقع عند أبي يوسف رحمه الله أن بينه وبين الجوف منفذاً ولهذا يخرج منه البول ووقع عند أبي حنيفة رحمه الله أن المثانة بينهما حائل والبول يترشح منه. (الهداية:
۱
/
۲۲۰
). (
اگر مرد نے پیشاب کی نالی میں قطرے ٹپکائے تو امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا، جب کہ امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک ٹوٹ جاتا ہے، گویا امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک مثانہ اور جوفِ بطن کے درمیان منفذ ہے اس لیے جوفِ بطن سے پیشاب مثانہ میں اس منفذ کے ذریعہ جاتا ہے، جب کہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک جوفِ بطن اور پیشاب کی نالی کے درمیان مثانہ حائل ہوتا ہے اور پیشاب اس سے قطرے بن کر ٹپکتا ہے) ۔
اگر جوف سے مراد دوسرا معنی یعنی (Abdominal cavity) مراد ہوتا تو پھر امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله کے درمیان اختلاف نہ ہوتا، کیوں کہ مثانہ تو بلا شک و شبہ اس میں واقع ہی ہے، اور اس میں کسی شئی کا داخلہ جوفِ بطن ہی میں داخلہ شمار ہوتا، لیکن جب اختلاف واقع ہوا ہے تو معلوم ہوا کہ جوفِ بطن سے فقہاء کی مراد معدہ اور آنتوں کا جوف ہے ۔ (مریض و معالج کے اسلامی احکام، ص۱٤۸ ۔ ۱٤۹) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله جوف کی تحقیق کرتے ہوے فرماتے ہیں:
فسادِ صوم کے لیے مفطر کا جوفِ دماغ یا جوفِ بطن میں بذریعہ منفذ اصلی پہنچنا ضروری ہے، مطلقاً کسی عضو کے جوف میں یا عروق (شرائیں و اور دہ) کے جوف میں پہنچنا مفسدِ صوم نہیں ۔ فقہاء کی عبارتیں دو طرح پر تقریباً بلکہ حقیقۃً اس دعوے کی تشریح کرتی ہیں:
اول تو یہ کہ فقہاء نے زخم پر دوا ڈالنے کو مطلقاً مفسد نہیں فرمایا بلکہ جائفہ یا آمہ کی قید لگائی ہے، کیوں کہ انھیں دو قسموں کے زخموں سے دوا جوفِ دماغ یا جوفِ بطن کے اندر پہنچتی ہے، ورنہ جوفِ عروق کے اندر تو دوسری قسموں کے زخموں سے بھی پہنچ جاتی ہے ۔
دوسرے بہت سی جزئیات فقہیہ مسلمات فقہاء میں سے ایسی ہیں جن میں دوا وغیرہ مطلقاً جوفِ بدن میں تو پہنچ گئی لیکن چونکہ جوفِ دماغ یا جوفِ بطن میں نہیں پہنچی اس لیے اس کو مفطر و مفسد صوم نہیں قرار دیا جیسے مرد کے پیشاب گاہ کے اندر دوا یا تیل وغیرہ چڑھانے سے باتفاقِ ائمہ ثلاثہ روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔
اگر دوا مثانہ تک پہنچ جائے تب بھی امام اعظم رحمه الله اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک مفسد صوم نہیں امام ابو یوسف رحمه الله جو مثانہ میں پہنچ جانے کو مفسد قرار دیتے ہیں وہ بھی اس بنا پر کہ ان کو یہ معلوم ہوا کہ مثانہ اور معدہ کے درمیان منفذ ہے جس سے دوا پہنچ جاتی ہے ورنہ نفس مثانہ میں پہنچنے کو وہ بھی مفسد نہیں فرماتے ۔
اسی طرح اگر کان میں پانی ڈالے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ کما صرح بہ فی الدر المختار و الخلاصہ حالانکہ کان بھی ایک جوف ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی انگور وغیرہ کو ایک تاگہ میں باندھ کر نگل جائے اور پھر معدہ میں پہنچنے سے پہلے کھینچ لے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔
الغرض اگر مطلق جوفِ بدن میں کسی شئی کا پہنچانا بلا خلاف مفسد ہوتا تو خود پیشاب گاہ بھی ایک جوف ہے اور مثانہ تو بدرجۂ اولیٰ جوف ہے اور حلق بھی جوف ہیں ۔ ان میں پہنچانا بلا خلاف مفسد صوم ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ مطلقاً جوفِ بدن میں مفطر چیزوں کا پہنچنا مفسد نہیں بلکہ خاص جوفِ دماغ اور جوفِ بطن مراد ہیں ۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص ٤۱۱، ط: دار الاشاعت) ۔
مفتی رفیع صاحب المقالات الفقہیہ میں فرماتے ہیں:

يتحصل من المسائل والجزئيات التي ذكرها الفقهاء في فساد الصوم أن الجوف المعتبر في نفسه عند الحنفية والمالكية هي المعدة والحلق والأمعاء، أما الأجواف الأخر التي توجد في باطن الجسم الإنساني، فما كان له مسلك إلى أحد هذه الثلاثة. بحيث إذا وصل شيء من الخارج إلى هذا الجوف وصل إلى أحد هذه الثلاثة عادة، إما مباشرة وإما بواسطة جوف آخر. فهو أيضاً جوف معتبر تبعاً لها، فيأخذ حكمها، وما لا يكون كذلك، فليس بجوف معتبر عندهم، لا أصالة ولا تبعاً، فإذا وصل إلى الجوف المعتبر شيء من المفطرات من منفذ معتبر وصولاً معتبراً فسد الصوم. (المقالات الفقهية، ص۸۵، الفصل الثالث في بيان الجوف).
وينظر: (
امداد الفتاوی: ۲/۱۷٤ ۔ ۱۷۸، و خیر الفتاوی: ٤/۷٤) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ڈائلیسس کی مذکورہ بالا دونوں قسموں سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اس لیے کہ اس کی وجہ سے جوفِ معدہ میں کوئی چیز داخل نہیں ہوئی ۔ البتہ دوسری قسم پیریٹونیل ڈائلیسس میں سیال دوائی کی وجہ سے آدمی کے جسم کو تقویت پہنچتی ہو اور کھانے پینے سے مستغنی رہتا ہو تو کراہت سے خالی نہیں ۔
تنبیہ: شیخ بن باز رحمہ اللہ کے نزدیک ڈائلیسس کے عمل سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے جیسا کہ فتاوی اللجنۃ الدائمۃ (۱۰/۱۸۹ ۔ ۱۹۰) میں مذکور ہے، اور شیخ عثیمین نے اس مسئلہ میں تفصیل بیان کی ہے کہ اگر سیال دوائی سے جسم کو تقویت پہنچتی ہے تو مفسد ہے ورنہ نہیں جیسا کہ فتاوی نور علی الدرب میں مرقوم ہے ۔ لیکن ان کے فتاوی سے ہمارا اتفاق نہیں ۔ ہمارے نزدیک ان میں سے کوئی بھی مفسدِ صوم نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.