بہ حالتِ صوم انجیو گرافی (Angiography) سے فسادِ روزہ کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #268Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص نے رمضان المبارک کے مہینہ میں دن میں روزہ کی حالت میں انجیو گرافی کرایا، کیا اس کا روزہ فاسد ہو گیا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بحالتِ صوم انجیو گرافی (Angiography) (اِس عمل میں انسان کی رگوں اور دل کی نالیوں میں نلکی ڈال کر خون کی رگوں اور اندرونی اعضاء کا معائنہ کیا جاتا ہے اور اسے ایکسرے کے طرز پر محفوظ کیا جاتا ہے ۔ یہ یونانی لفظوں میں Angeinبمعنی رگ اور Grapheinبمعنی لکھنا، ریکارڈ میں لانا سے مرکب ہے، خونی شریانوں کی یہ محفوظ تصاویرAngiongraphکہلاتی ہے، یا د رہے اس عمل سے مقصود ایکسرے ہوتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹوپ نما آلہ کو رگوں میں داخل کیا جاتا ہے اور اس آلہ میں ایک قسم کا سیال مادہ ہوتا ہے اس سیال مادہ کی وجہ سے ایکسرے بالکل صاف ہوتا ہے ۔)
ماخوذ از (www.verywellhealth.com)، (www.healthline.com) ۔
چونکہ اس عمل میں جو نلکی داخل کی جاتی ہے اس میں سیال مادہ ہوتا ہے اس لئے اس عمل کے کرانے سے روزہ فاسد ہو جائے گا اور قضا لازم ہو گی، کفارہ واجب نہیں ہوگا ۔
دلائل اور شواہد ملاحظہ فرمائیں: البحر الرائق میں ہے:

وكذا لو أدخل أصبعه في إسته أو أدخلت المرأة في فرجها هو المختار إلا إذا كانت الأصبع مبتلة بالماء أو الدهن فحينئذ يفسد لوصول الماء أو الدهن. (۲/۳۰۰، ط: دار المعرفة).

فتاوی شامی میں ہے:
(
أو أدخل أصبعه اليابسة فيه) أي في دبره أو فرجها (لم يفسد) ولو مبتلة فسد. (فتاوى الشامي: ۷/٤۰۳، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده).

محیط برہانی میں ہے:

وأكثر المشايخ اعتبروا الوصول إلى الجوف في الجائفة والآمة إن عرف أن اليابس وصل إلى الجوف يفسد صومه بالإتفاق، وإن عرف أن الرطب لا يصل إلى الجوف لا يفسد صومه. (المحيط البرهاني: ۲/٦٤۱، ط: دار إحياء التراث العربي).
قرار مجمع الفقه الإسلامي حول المفطرات في مجال التداوي: قرار مجمع الفقه؛ ذكر مسألة (إدخال المنظار
[میکروسکوب]
أو اللبوب ونحوهما إلى الرحم) وهذا السياق يشعر بأن المراد إدخال ذلك عن طريق المهبل وعلى كل حال فإن التصريح بصورة تنظير الجنين التي ذكرتها موجود في نص القرار ولم أقف عليه لغيره. هذا مخرّج على مسألة إدخال الإصبع في الدبر

عند الحنفية إذا أدخل أصبع وبقي بعضه خارجاً فإنه لا يفطر. (رسالة في المفطرات الطبية العلاجية: ۱/۵۹).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر تیر یا نیز ہ یا لکڑی یا ڈورہ بندھی ہوئی بوٹی یا کپڑا یا روئی وغیرہ کوئی چیز روزہ دار کے بدن کے منافذ میں سے کسی منفذ میں داخل ہو کر اندر بالکل غائب ہو جائے اور اس کا کچھ سرا باہر نکلا ہوا نہ رہے تو اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے جب کہ روزہ دار نے اپنے فعل سے اس کو داخل کیا ہو یا اس کے بدن کے لئے نفع ہو اور اگر ایک سرا یا کوئی حصہ باہر نکلا رہ گیا تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا، اور یہ قاعدہ کلیہ اس وقت ہے جب کہ وہ چیز جو اندر داخل کی گئی ہے خشک ہو لیکن اگر وہ چیز پانی یا روغن وغیرہ سے تر کی تو خواہ اس کا ایک سرا باہر بھی رہے اس کا روزہ اس پانی یا روغن کے پہنچنے کی وجہ سے فاسد ہو جائے گا جب کہ اس کو داخل کرتے وقت روزہ یا د ہو ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/ ۳۰۹، ط: زوار اکیڈمی) ۔
مفتی سلمان منصور پوری لکھتے ہیں:
اگر معدے وغیرہ کے ٹیسٹ کے لئے حلق یا ناک کے راستہ سے دور بین والی نلکی ڈالی گئی جس میں دوائی یا چکناہٹ شامل نہ تھی اور اس کا ایک سرا باہر تھا تو محض اس نلکی کے ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹے گا، لیکن اگر نلکی کے ساتھ کوئی اور مادہ بھی شامل ہو تو اس کے اندر داخل ہونے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ (کتاب المسائل: ۲/۱۵۵، ط: نعیمیہ دیوبند، و كذا فی المسائل المہمۃ فیما ابتلت بہ العامۃ: ۱/۱۰۷، ط: اکل کوا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.