مریض کا روزہ کی حالت میں آکسیجن کا آلہ لگا کر سونے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #271Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

بعض بیماری کی وجہ سے اطباء ایک آلہ تجویز کرتے ہیں جو سونے کی حالت میں ناک اور منہ میں لگا یا جاتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے، اس آلہ سے صرف صاف ستھری ہوا نکلتی ہے، اس میں بھاپ یا تری وغیرہ کچھ نہیں ہوتی، کیا اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟

Answer

سوال میں مذکور آلہ کانا م ریسپرونکس مشین (RESPIRONICS MACHINE SLEEP APNEA) ہے یہ آلہ ڈآ کر حضرات ان مریضوں کے لئے تجویز کرتے ہیں جن کو سونے کی حالت میں سانس بند ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، اس آلہ کو سوتے وقت لگایا جاتا ہے تاکہ اگر نیند میں سانس بند ہونے لگے تو یہ آلہ صاف ہوا کے ذریعہ مریض کو سانس لینے میں مدد گار ثابت ہو، یہ آلہ آکسیجن کی طرح مریض کو صاف ہوا پہنچانے کا کام کرتا ہے اس میں تری، بھاپ وغیرہ نہیں ہوتی ۔
ماخوذ از (
www.cpapdirect.com/pap-machines/phillips-respironics-dreamstatio n-auto-bipap-machine)

چونکہ اس آلہ میں بھاپ، تری وغیرہ نہیں ہوتی، فقط ہوا ہوتی ہے اس لئے بحالت صوم اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا ۔ جیسا کہ آکسیجن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔
مراقی الفلاح میں ہے:
لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهراً متصلاً. (مراقي الفلاح، ص: ۲٤٦).

فتاوی شامی میں منقول ہے:

لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهراً متصلاً كالدخان فإنهم قالوا: لا يكره الاكتحال بحال وهو شامل للمطيب وغيره ولم يخصوه بنوع منه. (فتاوى الشامي: ۲/٤۱۷، سعيد).

بطورِ تائید بعض عرب علماء کے عربی فتاوی ملاحظہ ہو : شیخ محمد بن صالح بن محمد العثیمین لکھتے ہیں:

ما حكم الأكسجين الذي يوضع على فم المريض أكثر اليوم، هل يفطر؟
الأكسجين الذي يعطى للمريض لا يفطر، لأن هذا الأكسجين ليس له جرم يصل إلى المعدة حتى نقول: إنه أكل أو شرب لكنه بارد يفتح الشرايين حتى يتنفس الإنسان، وعلى هذا لا يكون أكلاً ولا شرباً وما ليس بأكل ولا شرب ولا بمعنى الأكل والشرب فإنه لا يفطر. (جلسات رمضانية للعثيمين: ۱۵/ ۱۹).

دکتور احمد بن محمد خلیل لکھتے ہیں:

المسألة الثانية: غاز الأكسجين.
التعريف به: غاز الأكسجين هو هواء يعطى لبعض المرضى، ولا يحتوي على مواد عالقة، أو مغذية، ويذهب معظمة إلى الجهاز التنفسي.
حكمه: لا يعتبر غاز الأكسجين مفطراً كما هو واضح، فهو كما لو تنفس الهواء الطبيعي. (مفطرات الصيام المعاصرة، للدكتور أحمد بن محمد خليل: ۱/۱۷).

دوسری جگہ ہے:
غاز الأكسجين لا يفطر فهو هواء لا يحتوي على أي مادة تسبب الفطر. (مفطرات الصيام المعاصرة، للدكتور أحمد بن محمد خليل: ۱/۳۳).

مفتی انعام الحق صاحب قاسمی لکھتے ہیں:
بیماری میں مریض سونے کی حالت میں منہ اور ناک میں RESPIRONICS MACHINE لگا کر سوتے ہیں تاکہ سانس لینے میں دشواری نہ ہو تو روزہ کی حالت میں ایسی مشین یا آلہ استعمال کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، کیوں کہ اس سے صرف تیز ہوا آتی ہے، بھاپ یا تری وغیرہ کچھ نہیں آتی، اور صرف ہوا آنے جانے سے روزہ پر اثر نہیں پڑتا ۔ (ضمیمہ روزے کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا ص: ۳۰، ط: بیت العمار کراچی) ۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں:
دمہ کے سخت مریض کو دورہ پڑنے کے وقت آکسیجن پہنچائی جاتی ہے ۔ روزہ کی حالت میں اس طرح آکسیجن لینے کا کیا حکم ہوگا؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے فقہی جزئیات کو سامنے رکھتے ہوے تو خیال ہوتا ہے کہ اگر آکسیجن کے ساتھ کوئی دوائی نہ ہو تو روزہ فاسد نہیں ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ یہ سانس لینا ہے اور سانس کے ذریعہ ہوا لینا نہ مفسد صوم ہے اور نہ اس پر اکل و شرب کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اگر اس کے ساتھ دوا کے اجزا بھی ہوں تو پھر اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/ ۱۸۸، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
حضرت مفتی محمد سلمان منصور پوری لکھتے ہیں:
روزہ میں آکسیجن کے ذریعہ سانس لیا جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیوں کہ آکسیجن محض ایک صاف ستھر ی ہوا ہے، اس کا بدن میں جانا مفسد صوم نہیں ۔ (کتاب المسائل: ۲/ ۱۵٤، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.