بہ حالتِ روزہ اَلٹراساونڈ کرانے سے روزہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #267Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

کیا روزہ کی حالت میں وجائینل اَلٹرا ساونڈ کرانا درست ہے یا نہیں؟ کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟ نیز اگر کفارہ کے روزوں میں کیا جائے تو تسلسل متأثر ہو گا یا نہیں؟ نیز کفارہ کے روزہ کے درمیان فساد روزہ کا عدم علم عذر ہو سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

وجائینل اَلٹرا ساونڈ یعنی اس میں عورت کی شرمگاہ میں ایک قسم کا آلہ داخل کیا جاتا ہے اس آلہ پر غبارہ چڑھا ہوا ہوتا ہے اور غبارہ کے اوپر ایک قسم کا جیل لگایا جاتا ہے، اِس آلہ کے داخل کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ عورت کے رحم میں موجود بچہ کی حالت کو پورے طور پر جانا جائے کہ بچہ صحیح سلامت ہے یا اس میں کچھ نقص ہے، نیز بعض مرتبہ یہ عمل بچہ کی تذکیر و تانیث کو جاننے کی غرض سے بھی کیا جاتا ہے، یہ آلہ رحمِ مادر میں موجود بچہ کی حالت کو پوری طرح واضح کر دیتا ہے ۔
بصورت مسئولہ اگر روزہ کی حالت میں کسی نے سخت مجبوری کی وجہ سے یہ عمل کرا لیا تو گناہ نہ ہوگا، البتہ روزہ فاسد ہو جائے گا، اس لئے کہ اس میں جس آلہ کا استعمال کیا جاتا ہے اس پر جیل لگایا جاتا ہے اور پھر اس کو عورت کی فرج داخل میں رکھا جاتا ہے اور فقہاء نے تصریح کی ہے کہ فرج داخل میں کوئی تر چیز داخل کی جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، لہذا اگر کفارہ کے روزوں کے درمیان یہ عمل کرایا جائے تو چونکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس لئے تسلسل بھی متأثر ہو گا، پھر سے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے، نیز فسادِ روزہ کا عدمِ علم عذر نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو مراقی الفلاح میں ہے:

(أو أدخل أصبعه مبلولة بماء أو دهن في دبره) أو استنجى فوصل الماء إلى داخل دبره أو فرجها الداخل بالمبالغة فيه والحد الفاصل الذي يتعلق بالوصول إليه الفساد قدر الحقنة وقلما يكون ذلك. (مراقي الفلاح، ص ۲۵۲).

البحر الرائق میں ہے:
وكذا لو أدخل أصبعه في إسته أو أدخلت المرأة في فرجها هو المختار إلا إذا كانت الأصبع مبتلة بالماء أو الدهن فحينئذ يفسد لوصول الماء أو الدهن. (البحر الرائق: ۲/ ۳۰۰، ط: دار المعرفة).

النتف فی الفتاوی میں ہے:
قال وإن اختار الصوم فيصوم شهرين متتابعين فإن أفطر يوماً من غير عذر استقبل الصوم وإن كان عذر فلا يستقبل في قول أبي عبد الله والعذر ما ذكرناه فوق ذلك وفي قول أبي حنيفة وأصحابه لا عذر لأحد في ترك الاستقبال إذا أفطر يوماً إلا المرأة تحيض فإنها تبني على إذا طهرت فحسب لأنها لا يمكنها أن تصوم شهرين متتابعين من غير حيض. (النتف في الفتاوى، ص ۱۰٤، دار الكتب العلمية بيروت).

مفطراتِ صوم اور عصر حاضر کے بعض مسائل میں ہے:
ڈاکٹر لوگ تشخیص و تحقیق کے لئے جو آلات استعمال کرتے ہیں یہ چونکہ فرج میں داخل کر کے نکال لئے جاتے ہیں، وہیں چھوڑ نہیں دیے جاتے اس لئے ان سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، بشرطیکہ ان آلات پر کوئی دوا یا پانی وغیرہ لگایا ہوا نہ ہو ۔ (مفطراتِ صوم اور عصر حاضر کے بعض مسائل، ص ۲۰، ط مسیح العلوم بینگلور) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر محل حقنہ تک تر انگلی پہنچ جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا ۔ (۱۵/ ۱۸٦، ط: محمودیہ) ۔
دوسری جگہ ہے: سوال: ایک شخص نے کفارہ کے اُنسٹھ روزے مسلسل رکھے ساٹھویں روزہ رکھنے کے دن وہ بیمار پڑ گیا تو کیا از سرنو ساٹھ روزے رکھے یا بعد صحت صرف ایک روزہ رکھے؟
جواب: پھر سے ساٹھ روزے مسلسل رکھے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/ ۲۰٤، مکتبہ محمودیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.