حالتِ صوم میں شوگر کا انجکشن (insulin) لینے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #266Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

رمضان شریف میں روزہ کی حالت میں شوگر کے مریض کے لیے انسولین شوگر کا انجکشن لینا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی اس سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

روزہ کی حالت میں شوگر کے مریض کے لیے انسولین لینا جائز اور درست ہے، اس کی وجہ سے روزہ میں کوئی خرابی نہیں آئے گی، کیوں کہ انسولین میں گلوکوز ہوتا ہے جو رگوں میں جا کر خون کے ساتھ پیوست ہوتا ہے، اور مفسدِ صوم وہ چیز ہے جو منافذِ اصلیہ کے ذریعہ جوفِ دماغ یا جوفِ بطن میں پہنچ جائے ۔
آئیے انسولین (insulin) کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں:
انسولین (insulin) ایک ہارمون (hormone) ہے جولبلبہ (pancreas) سے بنایا جاتا ہے اور لبلبہ ایک غدود ہے جو پیٹ کے پیچھے کے حصہ میں ہوتا ہے ۔ انسولین کی وجہ سے جسم گلوکوز (glucose) حاصل کرتا ہے جس سے طاقت ملتی ہے ۔
(گلوکوز ایک قسم کی شکر ہے جو بہت سارے کاربوہائیڈریٹس (carbohydrates) [جو کھانے کی ایک قسم ہے]میں پائی جاتی ہے، کھانے کے بعد ہاضمہ کی راہ کاربوہائیڈریٹس کو توڑ کر گلوکوز میں تبدیل کر دیتا ہے، پھر گلوکوز چھوٹی انتری کی راہ میں خون میں مدغم ہو جاتا ہے ۔
گلوکوز کے مدغم ہو جانے کے بعد انسولین کی وجہ سے جسم کے سیل (cells) شکر کو جذب کر لیتے ہیں اور اس سے طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ انسولین کا ایک کام یہ بھی ہے کہ خون کے گلوکوز کا توازن برقرار رکھتا ہے، اگر خون میں گلوکوز بڑھ جائے تو انسولین خبر دیتا ہے کہ زائد گلوکوز کو جگر میں جمع کر لیا جائے ۔
انسولین کا انجکشن شوگر (diabetes) کی دونوں قسموں میں مدد کرتا ہے، جو لوگ ذیابطس کی پہلی قسم کے مریض ہیں، ان کے جسم میں انسولین پیدا نہیں ہوتا لہٰذا وہ انجکشن کے ذریعہ انسولین حاصل کرتے ہیں، اور جو لوگ ذیابیطس کی دوسری قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں انہیں بھی خون میں گلو کوز کا توازن قائم رکھنے کے لیے، کبھی انجکشن کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ہر قسم کے انسولین انجکشن ایک ہی طرح کا کام کرتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کتنا جلدی کام کرتا ہے اور کتنا دیر پا ہوتا ہے ۔
انسولین منہ سے نہیں لیا جاتا بلکہ پچکاری کے ساتھ انجکشن دیا جاتا ہے یا انسولین پین یا انسولین پمپ کے ذریعہ داخل کیا جاتا ہے اور سیدھا خون میں مدغم ہو جاتا ہے، عام طور پر اس کا انجکشن ران، سرین، بازو یا شکم میں دیا جاتا ہے ۔ (ماخوذ ا ز MyDr.com.au/Healthline.com) ۔
انگریزی عبارت ملاحظہ ہو :
Insulin is a hormone made in the pancreas; a gland located behind the stomach. It allows the body to use glucose for energy. (Glucose is a type of sugar found in many carbohydrates.)
After eating, the digestive tract breaks down carbohydrates and changes it to glucose. Glucose is then absorbed into the bloodstream through the lining of the small intestine.
Once glucose is in the bloodstream, insulin causes the cells throughout the body to absorb the sugar and use it for energy. Insulin also helps balance the blood glucose levels. If there is too much glucose in the bloodstream, the insulin signals it to store the excess in the liver.
Insulin injections help treat both Type 1 and Type 2 Diabetes. People with type 1 cannot make insulin so they must inject it and people with type 2 may need it to control their blood glucose levels.
All types of insulin produce the same effect; however, the different types affect how fast and for how long they work.
Insulin is not taken by mouth. It is injected with a syringe, insulin pen or insulin pump and is secreted directly into the bloodstream. It is generally injected in the thighs, buttocks, upper arms, or abdomen (also known as belly).

قال في الدر المختار: قوله وإن وجد طعمه في حلقه، أي طعم الكحل أو الدهن كما في السراج وكذا لو بزق فوجد لونه في الأصح، بحر، قال في النهر: لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر وإنما كره الإمام الدخول في الماء والتلفف بالثوب المبلول لما فيه من إظهار الضجر في إقامة العبادة لا لأنه مفطر. (فتاوى الشامي: ۲/۳۹٦، سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: ولو دخل حلقه غبار الطاحونة أو طعم الأدوية أو غبار الهرس، وأشباهه أو الدخان أو ما سطع من غبار التراب بالريح أو بحوافر الدواب، وأشباه ذلك لم يفطره كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۳).
وقال في المبسوط: وان وصل عين الكحل إلى باطنه فذلك من قبل المسام لا من قبل المسالك إذ ليس من العين إلى الحلق مسلك فهو نظير الصائم يشرع في الماء فيجد برودة الماء في كبده وذلك لا يضر. (المبسوط للإمام السرخسي: ۳/۱۲۱، ط: دار الفكر، بيروت).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : فتاوی دار العلوم زکریا، جلد سوم، (ص ۲۹۹ ۔ ۳۰۱، ط؛ زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.