کھانے یا جماع سے افطار کرنے پر تداخل کفارہ کا حکم:
Question
بہشتی زیور کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر دو رمضان میں کسی نے کھانا کھایا تو ایک کفارہ کافی ہے اور اگر دو رمضان میں دو مرتبہ جماع کیا تو دو کفارے لازم ہیں، اور علامہ شامی رحمه الله نے اس کی وجہ جنایت کا بھاری ہونا تحریر فرمایا ہے، کیا جماع اور کھانے میں فرق ہے یا دونوں کا حکم ایک ہے؟
Answer
بعض محققین نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ دونوں صورتوں میں ایک ہی کفارہ لازم ہوگا، چاہے جماع ہو یا کھانا ہو دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں، شیخ عبد الواحد سیوستانی فتاوی واحدی میں تحریر فرماتے ہیں:
الظاهر أن الأصح ما في مختصر الأجناس ويؤيد ه ما في السراجية إذا أفطر في رمضان مراراً يكفيه كفارة واحدة وكذا لو أفطر في رمضانين وهو الأصح. والإفطار كما تكون بسائر المفطرات فكذا بالجماع، فيدخل في قوله إذا أفطر كما لا يخفى
وصحح في متن مواهب الرحمن التداخل في صورة وجود الجماع في رمضانين أيضاً حيث قال: وكفت عندنا كفارة واحدة عن وطيات في أيام لم يتخلل بينهما تكفير ولو في رمضانين دون غيره على ما اختاره البعض للفتوى.
آگے مصنف رحمہ اللہ فرق کرنے والوں کا قول بیان فرماتے ہیں:
وأما ما في الأشباه والعيني من الفرق بوجوب الكفارتين في صورة وجود الجماع في رمضانين فمتفرع على ما اختاره بعض من التداخل في غير الجماع فقط كما يستفاد من الدر المختار، بزازية، مجتبى وغيرهما، واختار بعضهم للفتوى أن الفطر بغير الجماع تداخل وإلا، لا، انتهى. (فتاوى واحدي: ۳۲۳، باب ما يوجب الكفارة).
حاصل یہ ہے کہ دو رمضان میں قصداً کھانا کھائے یا دو رمضان میں دو جماع کرے ایک کفارہ ہوگا، ہاں اگر پہلی جنایت کا کفارہ ادا کر کے دوسرے رمضان میں بھی وہی جنایت کر لی تو دو بارہ کفارہ لازم ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.