مسافر کا گھر واپس آ کر عمداً کھانے سے کفارہ کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص سفر شرعی کے ارادہ سے گھر سے نکلے اور وہ روزہ دار ہو، پھر درمیانِ سفر سے سفر شرعی کو پورا کیے بغیر واپس آ کر روزہ توڑ دے تو اس پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
Answer
استحسان کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر کفارہ لازم نہ ہو، اور وجہ استحسان یہ ہے کہ وہ آدمی مسافر شرعی بن گیا تھا، اور مسافر کے لیے حالتِ سفر میں صوم و فطر میں اختیار ہے، مسافر اگر سفر میں روزہ توڑ دے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہوتا، لہذا اس پر بھی کفارہ واجب نہیں ہوگا ۔
لیکن قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس آدمی پر کفارہ واجب ہو اور وجہ قیاس یہ ہے کہ وہ شخص درمیان میں سفر چھوڑ کر واپس وطن آگیا اور مقیم کے حکم میں ہو گیا اور مقیم عمداً روزہ توڑ دے تو اس پر کفارہ واجب ہوتا ہے لہذا اس پر بھی کفارہ واجب ہوگا، اور اس مسئلہ میں فتویٰ قیاس پر ہے ۔ یعنی کفارہ واجب ہوگا ۔
قال في الدر المختار: إلا إذا دخل مصره لشيء نسيه فأفطر فإنه يكفر، وقال في الشامية: أي قياساً لأنه مقيم عند الأكل حيث رفض سفره بالعود إلى منزله وبالقياس نأخذ، خانية، فتزاد هذه على المسائل التي قدم فيها القياس على الاستحسان.
(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۳۱، سعيد). (وكذا في مجمع الأنهر: ۱/۳٦٦، بيروت، والفتاوى الهندية: ۱/۲۰۷، والمحيط البرهاني: ۲/۵٦٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.