ایامِ تشریق کے روزہ کی قضا کا حکم:
Question
اگر کسی نے ایامِ تشریق میں روزہ رکھا پھر اس کو معلوم ہوا کہ یہ روزہ ناجائز ہے لہذا اس نے توڑا، کیا اس کی قضا واجب ہو گی یا نہیں؟ اسی طرح سورج نکلتے وقت نماز شروع کی اور توڑ دی تو قضا واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عید کے دن اور ایامِ تشریق نفل روزہ توڑنے پر قضا نہیں اور طلوعِ شمس اور غروبِ شمس کے وقت نفل نماز شروع کر کے توڑنے پر قضا واجب ہے ۔ پھر روزہ اور نماز کے درمیان تین فرق علماء نے بیان فرمائے ہیں: (۱) نماز کے لیے تکبیر تحریمہ ہے اور صوم کے لیے تحریمہ نہیں ہے، تو نماز کی تحریمہ توڑنے کے نتیجہ میں قضا ہے ۔
(۲) اوقاتِ مکروہہ میں نماز کی کراہت پر اتفاق نہیں بلکہ بعض ائمہ کے نزدیک بعض نمازوں کی گنجائش ہے اور ایامِ نحر اور عیدین کے روزے کی کراہیت پر اتفاق ہے، جب متفقہ مکروہ توڑے تو قضا نہیں ۔
(۳) صوم شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی حقیقت ہے، جب کہ نماز ایک حقیقت نہیں، بلکہ مختلف ارکان کا مجموعہ ہے: قیام، رکوع، سجود اور قعود یہ الگ الگ ارکان ہیں، تو جب روزہ شروع کیا تو ابتدا ہی سے پوری حقیقت میں کراہت متحقق ہو گئی لہذا توڑنے پر قضا نہیں بخلاف نماز کے کہ اگر قیام کو شروع کیا تو رکوع اور سجود میں کراہت نہیں آئی اس لیے نماز میں قضا ہے اور صوم میں نہیں ۔
چنانچہ علامہ کشمیری رحمه الله العرف الشذی میں رقم طراز ہیں:
وكنت متردداً في وجه الفرق بين شروع الصلاة في الأوقات المكروهة فإنها يجب قضاؤها
وبين شروع الصوم في الأيام الخمسة المكروهة فإنه لا قضاء فيه إن لم ينذر وقال البعض: إن في الصوم إذا أمسك ساعة فبعدها تكون الأجزاء متكررة بخلاف الصلاة فإنه ما لم يركع ركعة واحدة لا يقال له إنه مصلٍ فإذا صلى ركعة واحدة فقد أدي قدراً معتداً به فلا ينبغي إلغاؤه، ولم يكن هذا شافياً حتى رأيت في البدائع عن أبي بكر العياضي وجهين:
أحدهما: أن عدم جواز الصوم في الأيام الخمسة متفق عليه لا يشذ عنهم شاذ وأما جواز الصلاة في الأوقات المكروهة فمختلف فيه
وثانيهما: أن المصلي إذا شرع في الصلاة وكبر فصارت تحريمته بمنزلة النذر بخلاف الصوم فإنه إذا شرع فلم يتلفظ بشيء فلم يكن الشروع بمنزلة النذر وفي النذر حقيقة يلزمان أي الصوم والصلاة ويجب الإفساد والقضاء، وهاهنا بحث طويل للحافظ ابن تيمية رحمه الله وأطنب إطناباً
(العرف الشذي: ۱/۱۷۱).
قال في البدائع: ومنهم من فرق بينهما فقال: إن النهي عن الصلاة في هذه الأوقات ثبت بدليل فيه شبهة العدم وهو خبر الواحد، وقد اختلف العلماء في صحته ووروده فكان في ثبوته شك وشبهة وما كان هذا سبيله كان قبوله بطريق الاحتياط والاحتياط في حق إيجاب القضاء على من أفسد بالشروع أن يجعل كأنه ما ورد بخلاف النهي عن الصوم لأنه ثبت بالحديث المشهور، وتلقته أئمة الفتوى بالقبول فكان النهي ثابتاً من جميع الوجوه فلم يصح الشروع فلم يجب القضاء بالإفساد والفقيه الجليل أبو أحمد العياضي السمرقندي ذكر هذه الفروق وأشار إلى فرق آخر وهو أن الصوم وجوبه بالمباشرة وهو فعل من الصوم المنهي عنه فأما الصلاة فوجوبها بالتحريمة وهي قول وليست من الصلاة فكانت بمنزلة النذر، والله أعلم. (بدائع الصنائع: ۱/۲۹۱، سعيد).
مزید دلائل کے لیے دیکھیے: (
فتح القدير: ۲/۳۸۷، وفتاوى الشامي: ۱/۳۷۳، سعيد، والبحر الرائق: ۱/۲٤۹، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱۸۵، والفتاوى الولوالجية: ۱/۲۲۹، وعمدة الفقه: ۳/۱۸۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.