دوگانہ کو جمع کر کے پڑھنے کا حکم:
Question
کئی طواف کی نمازیں جمع کر کے ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو یہ عمل جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر کسی عذر کی وجہ سے ایسا کرتا ہے مثلاً طواف مکروہ اوقات میں کیے ہیں، تو اوقاتِ مکروہہ میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لہذا مکروہ وقت نکلنے کے بعد پڑھنا واجب ہے، لیکن بلا عذر ایسا کرتا ہے تو ترکِ سنت کی وجہ سے مکروہ ہے، کیوں کہ طواف اور دوگانہ کے درمیان مولاۃ سنت ہے یعنی ہر طواف کے بعد دوگانہ ادا کرے پھر دوسرا طواف شروع کرے ۔
نیز عصر اور فجر کی نماز کے بعد طواف کر لیا تو آفتاب نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی طواف کی دو رکعتیں نہ پڑھے طلوعِ آفتاب کے بعد جب وقت مکروہ ختم ہو جائے تو صلاۃِ طواف پڑھ لے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ لباب المناسک میں ہے:
فصل في مكروهاته
والجمع بين أسبوعين فأكثر من غير صلاة بينهما لما يترتب عليه من ترك السنة، وهي الموالاة بين الطواف وصلاته لكل أسبوع عند أبي حنيفة رحمه الله ومحمد رحمه الله سواء انصرف عن شفع أو وتر، وعند أبي يوسف رحمه الله لا بأس به إذا انصرف عن وتر وإن فعل صلى لكل أسبوع ركعتين، فلو انصرف عن شفع كره اتفاقاً إلا في وقت كراهة الصلاة لانه لا كراهة حينئذٍ بالجمع شفعاً ووتراً اتفاقاً لكن يؤخر ركعتي الطواف إلى وقت مباح. (شرح اللباب، ص۱۸۳). (وكذا في غنية الناسك، ص ٦۲، وعمدة الفقه: ٤/۱۹۰، مكروهات طواف).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.