طلوعِ شمس اور غروبِ شمس کے وقت نماز نہ پڑھنے کی حکمت:
Question
طلوعِ شمس و غروب کے وقت نماز ممنوع ہے کفار کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے تو اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ کفار اس وقت سورج کی عبادت کرتے ہیں تو مسلمانوں کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اللہ تعالی کی عبادت کر کے کفار کا مقابلہ کرنا چاہیے؟ پھر ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بظاہر ان اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت کی حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ شیاطین سورج کو فضا میں اڑ کر اپنے سینگوں کے درمیان لے لیتے ہیں تو اس علاقے کی پوری فضا اور دھوپ پر شیطانی اثرات پڑتے ہیں اور اس وقت پورا علاقہ ان اثرات سے ملوث ہو جاتا ہے اور شیطان کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ لوگ اس وقت عبادت اور نماز پڑھ کر شیطانی اثرات سے ملوث ہوں تو شریعت کا حکم ہے کہ شیطان کے مقصد کو پورا مت کرو، اگر سورج کی جہت کے خلاف دوسری طرف کعبہ کی طرف نماز پڑھتے ہوں تو پھر بھی دھوپ اور فضا شیطانی اثرات سے ملوث ہے، اس سے بچنا چاہیے ۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ جب سورج کے سامنے بادل آتا ہے تو اس بادل کے نیچے پوری فضا میں بادل کا سایہ پڑتا ہے اسی طرح شیطان کے سینگوں کے درمیان اور اس کے نیچے جتنی جگہ آئی وہاں کراہت پائی گئی ۔
یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مکان کی تبدیلی سے مکان کی کراہت ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح زمان کی کراہت زمان کے بدلنے سے ختم ہوتی ہے اور یہاں زمانہ کی کراہت ہے، اس لیے تبدیل زمان کا انتظار کرنا چاہیے ۔
جیسا کہ ایک سفر میں نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام کی نمازِ فجر قضا ہو گئی تھی تو آپ نے وہاں سے کوچ کرنے کا حکم دیا اور بعد میں نماز قضا فرمائی یعنی تبدیل مکان اور تبدیل زمان کی رعایت فرمائی ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث شریف میں ہے:
عن عمران بن حصين قال: كنت مع نبي الله ﷺ في مسير له فأدلجنا ليلتنا حتى إذا كان في وجه الصبح عرسنا فغلبتنا أعيننا حتى بزغت الشمس
فلما رفع رأسه ورأى الشمس قد بزغت قال: ارتحلوا فسار بنا حتى إذا ابيضت الشمس نزل فصلى بنا الغداة
الخ. (رواه مسلم، رقم: ٦۸۲، باب قضاء الصلاة الفائتة).
ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہاں شیطانی اثرات ہیں آگے چلو ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے:
فقال النبي ﷺ: ليأخذ كل رجل برأس راحلته فإن هذا منزل حضرنا فيه الشيطان قال ففعلنا. (رواه مسلم، رقم: ٦۸۰).
ممانعت والی حدیث ملاحظہ کیجیے:
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا طلع حاجب الشمس فأخروا الصلاة حتى ترتفع وإذا غاب حاجب الشمس فأخروا الصلاة حتى تغيب. (صحيح البخاري، رقم: ۵۸۳).
وفي رواية قال: فإنها تطلع بين قرني شيطان أو الشيطان. (صحيح البخاري، رقم: ۳۲۷۳).
وفي فتح الباري: فإنها تطلع بين قرني شيطان وفيه إشارة إلى علة النهي عن الصلاة في الوقتين المذكورين وزاد مسلم من حديث عمرو بن عبسة وحينئذٍ يسجد لها الكفار فالنهي حينئذٍ لترك مشابهة الكفار. (فتح الباري: ۲/٦۰).
حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمه الله فرماتے ہیں:
ثم الصلاة خير مفروض، فمن استطاع أن يستكثر منها فليفعل غير أنه نهى عن خمسة أوقات: ثلاثة منها أوكد نهياً عن الباقين، وهي الساعات الثلاث إذا طلعت الشمس بازغة حتى ترتفع، وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل، وحين تتضيف للغروب حتى تغرب لأنها أوقات صلاة المجوس، وهم قوم حرفوا الدين جعلوا يعبدون الشمس من دون الله، واستحوذ عليهم الشيطان، وهذا معنى قوله ﷺ: فإنها تطلع بين قرني الشيطان، وحينئذٍ يسجد لها الكفار، فوجب أن يميز ملة الدين الإسلامي وملة الكفر في أعظم الطاعات من جهة الوقت أيضاً. (حجة الله البالغة: ۲/۳۸، ۳۹، ط: قديمي كتب خانه).
علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله فرماتے ہیں:
والنهي في حديث عقبة من الأول فكان الثابت به كراهة التحريم، فإن كانت الصلاة فرضاً أو واجبة فهي غير صحيحة لأنها لنقصان في الوقت بسبب الأداء فيه تشبيهاً بعبادة الكفار. (البحر الرائق: ۱/۲٤۹، كوئته). (وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص، وفتح القدير: ۱/۲۳۲، دار الفكر، وبوادر النوادر، ص ۳۰۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.