دوگانہ نفل کی منت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #258Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۲): نذر سے متعلق احکام

Question

ایک شخص نے کسی کام کے ہونے پر روزانہ دو رکعت نفل کی منت مانی وہ کام ہو گیا، لیکن کچھ دنوں سے دو رکعت کی پابندی نہ ہوئی اب قضا کرے یا کفارہ دے دے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ نماز کی قضا لازم ہے اس لئے کہ شرط معلق موجود ہے، اور یہ مسئلہ فوت شدہ نماز کی طرح ہے یعنی جب نماز فوت ہو جائے تو قضا ضروری ہے، کیوں کہ صرف وقت فوت ہوا وجوب تو باقی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها عن النبي ﷺ قال: من نذر أن يطيع الله فليطعه. (رواه البخاري: ۲/۹۹۱، باب النذر في المعصية).

در مختار میں ہے:

ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط

ووجد الشرط المعلق به لزم الناذر لحديث: "من نذر وسمّي فعليه الوفاء بما سمّي" كصوم وصلاة

الخ. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷۳۵، سعيد).

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

ولو نذرت عبادة كصوم وصلاة في غد فحاضت فيه يلزمها قضاؤها لأنه يمنع الأداء لا الوجوب ولو نذرتها يوم حيضها لا، لأنه نذر بمعصية. (تنوير الأبصار مع الدر المختار: ۲/٤۳).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اس قسم کی نذر لازم ہو جاتی اور پورا کرنا اس کا لازم ہے، جو دوگانہ وقت پر ادا نہیں ہو اس کی قضا لازم ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۲/۱۰۸، مدلل و مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.