حج کرانے یا چلہ میں بھیجنے کی نذر کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے کہا "اگر مجھے اللہ تعالی نے ایک سال میں بیٹا دیا تو میں زید کو حج کراؤں گا" یا چلہ کے لئے بھیجوں گا، نذر لازم ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ نذر لازم نہیں ہے، اس لیے کہ نذر اپنے فعل کی منعقد ہوتی ہے نہ کہ دوسرے کے فعل کی، اور نذر عبادتِ مقصودہ کی منعقد ہوتی، جب کہ چلہ لگانا عبادتِ مقصودہ نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ومن نذر نذرا مطلقاً أو معلقاً بشرط، وكان من جنسه واجب
وهو عبادة مقصودة
ووجد الشرط المعلق به لزم الناذر لحديث "من نذر وسمي فعليه الوفاء بما سمي". وفي الشامي: (قوله: وهو عبادة مقصودة)
وفي البدائع: ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان
(قوله: لزم الناذر) أي لزمه الوفاء به، والمراد أنه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۷۳۵، سعيد).
امداد الفتاوی میں ہے:
(سوال) کسی شخص نے اس شرط پر منت کی تھی کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ پسر عنایت فرما دے تو بارہ برس کے بعد کعبہ شریف میں بھیجوں گا، لیکن بوقتِ نذر توانگر تھا، اب غریبی آ گئی، اب کیا کیا جائے ادائے منت اس پر واجب ہے یا نہیں؟
(الجواب) نذر اپنے فعل کی منعقد ہوتی ہے، نہ کہ دوسرے کے فعل کی، لہذا یہ نذر بھی منعقد نہیں ہوئی ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵٦۱) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
(سوال) زید نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو گیا تو میں کسی کو حج کراؤں گا، زید کا کام ہو گیا تو اب زید کے لئے واجب ہے کہ نذر کرائے؟
الجواب: یہ منت اس طرح لازم ہو جاتی ہے کہ میں خود حج کروں گا، لیکن کسی کو حج کراؤں گا اس طریق پر لازم نہیں ہوئی ۔ (کفایت المفتی: ۲/۲۵۲) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
زید نے نذر مانی کہ میرا ہاتھ صحیح ہو گیا تو چالیس دن تبلیغ یعنی جماعت میں جاؤں گا، تو یہ نذر صحیح ہوئی یا نہیں ۔ اور اس کا پورا کرنا واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب نہیں تو جائز بھی ہے یا نہیں؟
(الجواب) صحتِ نذر کے لئے یہ شرط ہے کہ منذور عبادتِ مقصودہ ہو، تبلیغ عبادتِ مقصودہ نہیں، اس لئے یہ نذر منعقد نہیں ہوئی، اس کا ایفاء واجب نہیں، جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/٤۹۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.