غیر معتدل الایام ممالک میں نماز، روزہ اور عید منانے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 2 #3Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱): اوقاتِ نماز کا بیان

Question

طویل الایام ممالک میں یا تو شفق غروب نہیں ہوتا ہے یا وقت ہی نہیں ملتا تو نماز، روزہ اور عید کا کیا حکم ہے؟

Answer

غیر معتدل ایام ممالک تین قسم پر ہیں:
(
۱)
دن رات تو چوبیس گھنٹوں میں پورے ہوتے ہیں لیکن دن کے بعض اجزاء مفقود ہوتے ہیں (مثلاً شفق غروب نہیں ہوتا تو رات نہیں ہوتی یا شفق تو ظاہر ہوتا ہے لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا) اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اوقات کا اندازہ لگا کر نماز پڑھیں گے، اور اندازہ لگانے کی تین صورتیں ہیں:
(۱) سال بھر میں معتدل ایام کے آخری دن کا حساب غیر معتدل ایام کی پوری مدت پر لگا کر نماز وغیرہ ادا کریں گے۔ (لیکن یہ بہت مشکل ہے، مثلاً آخری دن جب شفق غروب ہوا اور پھر صبح طلوع ہوئی اس میں ۸ منٹ کا فاصلہ تھا تو ۸ منٹ کے انتظار میں بیٹھنا اور نماز ادا کرنا بہت مشکل ہے۔)
(۲) قریب ترین علاقے کا اعتبار کیا جائے جہاں باقاعدہ شفق غروب ہوتا ہے۔
(۳) شفق جب غروب کی طرف مائل ہو تو وہ مغرب و عشاء کا وقت ہو گا، اس طور پر کہ نصفِ اول مغرب کے لیے اور نصفِ ثانی عشاء کے لیے۔ اور جب شفق طلوعِ شمس کی طرف مائل ہو تو وہ فجر کا وقت ہوگا۔
(ان تینوں میں سے جو بھی آسان ہو اس پر عمل کر سکتے ہیں)
(
۲)
دن رات چوبیس گھنٹوں میں پورے ہوتے ہیں اور تمام اوقات بھی پائے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات بہت ہی مختصر ہوتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں نماز اپنے معروف اوقات ہی میں ادا کی جائے گی، اگر چہ وقت بہت کم ہو۔ ہاں سنن اور نوافل کا موقع نہ ملے تو صرف فرض پر اکتفاء کر لے پھر دوسرے وقت میں چھوٹی ہوئی سنتوں کے بقدر نوافل پڑھ لے۔
لیکن وقت اتنا مختصر ہے کہ چار رکعات فرض بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں تو دو احتمال ہیں:
(۱) اسی وقت میں نماز پڑھے اگر چہ وقت نکل جانے کے بعد پوری ہو۔
(
۲)
اندازہ لگا کر نماز پڑھے۔
(
۳)
دن رات چوبیس گھنٹوں میں پورے نہیں ہوتے بلکہ کبھی رات چھ مہینے کی ہوتی ہے اور کبھی دن چھ مہینے کا ہوتا ہے۔ ایسے ممالک میں قریب ترین علاقوں کا اعتبار کیا جائے گا۔
حکم الصوم:
جہاں دن رات چوبیس گھنٹوں میں پورے ہوتے ہیں لیکن رات بہت ہی مختصر ہوتی ہے تو اگر روزہ قابلِ تحمل ہے تو پورے دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے۔
اور اگر قابلِ تحمل نہیں ہے۔ مثلاً کھانے پینے کے لیے وقت کافی نہیں ہے یا چوبیس گھنٹوں میں ایک بار کھانا کافی نہیں ہے تو اس صورت میں قریب ترین علاقوں کا اعتبار کیا جائے۔
نیز جہاں چھ مہینے کی رات اور چھ مہینے کا دن ہوتا ہے وہاں بھی قریبی ممالک کا اعتبار کرتے ہوے اندازہ لگا کر روزہ رکھے اور افطار کرے۔
عید منانے کا طریقہ:
رمضان اور عید منانے کا طریقہ چاند ہی سے معلوم ہوگا۔
حضور
ﷺ
کا ارشاد ہے:

صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته. (ترمذي شريف: ۱/۱٤۷، باب ما جاء لا تتقدموا الشهر بصوم)

اور اگر چاند نظر نہیں آتا تو تیس دن کا مہینہ شمار کریں گے۔
آپ
ﷺ
کا فرمان ہے:

"فإن حالت دونه غيابة فأكملوا ثلاثين يوماً". (ترمذي شريف: ۱/۱٤۸، باب ما جاء أن الصوم لرؤية الهلال والإفطار له)

یہ حکم پہلی دو قسموں کے لیے ہے جہاں دن رات چوبیس گھنٹوں میں پورے ہوتے ہیں۔
رہی آخری قس میں جہان مسلسل رات یا مسلسل دن ہوتا ہے وہاں اندازہ لگائیں گے۔ اور اندازہ لگانے کی دو صورتیں ہیں:
(۱) چوبیس گھنٹوں کو ایک دن شمار کریں اور مہینہ تیس دن کا شمار کریں۔
(۲) قریب ملک کی پیروی کریں جہاں دن رات معتدل ہوتے ہیں۔
اس مسئلہ کی دلیل حدیثِ دجال ہے۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ شریف میں ہے:

"عن النواس بن سمعان رضي الله عنه قال: ذكر رسول الله ﷺ الدجال فقال: إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم إلى قوله

قلنا يا رسول الله وما لبثه في الأرض قال: أربعون يوماً يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم، قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذي كسنة أ يكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: لا، اقدروا له قدره. (مشكوة شريف: ۲/٤۷۳، باب العلامات بين يدي الساعة وذكر الدجال)

طحطاوی علی الدر المختار میں ہے:

(وفاقد وقتهما كبلغار فإن فيها يطلع الفجر قبل غروب الشفق في أربعينية الشتاء مكلف بهما فيقدر لهما) اعلم أن التقدير له معنيان أحدهما: ما سيأتي تقريره في مسألة الدجال والثاني: فيه طريقتان: الأولى: أن يعتبر بأقرب البلاد إليهم كما ذكره الشافعية

والثانية: أن ينظر إلى وقت العشاء في القريبة منها ماذا يكون من ليلهم فبقدر هذه النسبة يفعل في هؤلاء فإن كان السدس جعلنا لهؤلاء سدسه وقت المغرب وبقية وقت العشاء وإن قصر جداً، وكذا يقدرون في الصوم ليلهم بأقرب بلد يليهم

(قوله واختاره الكمال) حيث قال: ومن لم يوجد عندهم وقت العشاء أفتي البقال بعدم الوجوب عليهم لعدم السبب كما يسقط غسل اليدين من الوضوء عن مقطوعهما من المرفقين ولا يرتاب متأمل في ثبوت الفرق بين عدم محل الفرض وبين سببه الجعلي الذي جعل علامة على الوجوب الخفي الثابت في نفس الأمر لجواز تعدد المعرفات للشيء فانتفاء الوقت انتفاء المعرف وانتفاء الدليل على الشيء لا يستلزم انتفائه لجواز دليل آخر وقد وجد وهو ما توالت عليه أخبار الإسراء من فرض الله تعالى الصلوات خمساً بعد أمر الله تعالى أولاً بخمسين ثم استقر الأمر على الخمس شرعاً عاماً لا هل الآفاق لا تفصيل فيه بين قطر وقطر وما روي أنه ﷺ ذكر الدجال قلنا ما لبثه في الأرض قال: أربعون يوماً يوم كسنة ويوم كشهر

فقد أوجب أكثر من ثلث مئة عصر قبل صيرورة الظل مثلاً أو مثلين وقس عليه فاستفدنا أن الواجب في نفس الأمر خمس على العموم غير أن توزيعها على تلك الأوقات عند وجودها ولا يسقط بعدمها الوجوب ولذا قال ﷺ خمس صلوات كتبهن الله على العباد

(الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۷٥. ۱۷٦)

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
تكملة فتح الملهم: ٦/۳۷۳. ۳۸۲.

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.