نماز ِ عید پڑھنے کے بعد دوسرے ملک میں عید کی نماز پڑھانے کا حکم:
Question
ایک مولانا صاحب نے عید کی نماز حرمین میں پڑھی اور دوسرے دن ساؤتھ افریقہ آ گئے یہاں دوسرے دن عید ہے تو مولانا صاحب عید کی نماز پڑھا سکتے ہیں؟ یا دوسرے کی اقتداء میں پڑھنا کیسا ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مولانا صاحب ساؤتھ افریقہ میں نماز ِ عید کی امامت نہیں کر سکتے ہاں دوسرے امام کی اقتداء میں پڑھنا درست ہے بلکہ مسلمانوں کے ساتھ موافقت کے لیے پڑھنا افضل اور بہتر ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ میں ہے:
جن امام صاحب نے عید کی نماز ایک دفعہ پڑھا دی پھر کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی پڑھاؤ امام صاحب نے ان کو بھی پڑھا دی تو یہ دوسری نماز صحیح نہیں ہوئی ۔ (فتاوی محمودیہ ۸/٤۳٦، باب العیدین ۔ و کذا فی فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۲۲٤، مسائل نماز عیدین، دار الاشاعت)
دوسری جگہ مذکور ہے:
سوال: ایک شخص مکہ سے روزہ افطار کر کے یا عید کی نماز ادا کر کے ہندوستان آیا ہے کہ یہاں لوگ روزے سے ہیں اور نماز عید ادا نہیں کی ہے اب کیا کرے روزہ رکھے، عید کی نماز دوبارہ ادا کرے یا نہیں؟
جواب:
احتراماً للوقت وموافقة للمسلمين
وہ نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے، اگر چہ اس کا فریضہ ادا اور مکمل ہو چکا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۳۷، کتاب الصوم، جامعہ فاروقیہ)
بدائع الصنائع میں ہے:
أن النبي ﷺ صلى بالناس صلاة الخوف وجعل الناس طائفتين وصلي لكل طائفة شطر الصلاة لينال كل فريق فضيلة الصلاة خلفه ولو جاز اقتداء المفترض خلف المتنفل لا تم الصلاة بالطائفة ثم نوي النفل وصلى بالطائفة الثانية لينال كل فريق فضيلة الصلاة خلفه من غير الحاجة إلى المشي وأفعال كثيرة. (بدائع الصنائع: ۱/۱٤۳، سعيد).
امداد الفتاح میں ہے:
وأن لا يكون الإمام أدني حالاً من المأموم كان يكون متنفلاً والمقتدي مفترضاً أو معذوراً والمقتدي خالياً منه. (إمداد الفتاح: ص ۳۳۳، شروط صحة الاقتداء، بيروت. وكذا في الدر المختار: ۱/٥٤۲، باب الإمامة، سعيد)
البتہ احسن الفتاوی میں امامت کا جواز مذکور ہے ۔ ملاحظہ ہو احسن الفتاوی: ٤/۱۲٤ ۔ اور دلیل میں جو نظیر پیش فرمائی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہلالِ رمضان دیکھنے والے کی شہادت رد کر دی گئی ہو تو بالاتفاق اس شخص پر تکمیل ثلاثین کے بعد بھی دوسروں کے ساتھ روزہ وعید لازم ہے لہذا ساؤتھ افریقہ آنے والے پر بھی دوبارہ عید لازم ہے تو امامت کرنا درست ہے لیکن احوط یہ ہے کہ امامت نہ کرے بصورتِ اقتداء نماز ادا کرے ۔
لیکن یہ تبعاً ہے یعنی کبھی کبھی تبعاً رمضان کے روزے تو اکتیس ہو سکتے ہیں جیسے کسی نے چاند کی گواہی دی اور قبول نہیں ہوئی تو یہ اپنا روزہ رکھے گا اور پھر دوسرے دن سے لوگوں کے ساتھ رکھے گا اور ممکن ہے کہ اس کے روزے اکتیس ہو جائیں لیکن یہ تبعاً ہے اور عید کی نماز جب پڑھی تو لوگوں کو نہ پڑھائیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.