مسجد میں نماز عیدین مکرر پڑھنے کا حکم:
Question
بعض مرتبہ یورپ و امریکہ میں ایک وقت میں عید کی نماز پڑھنا مشکل ہوتا ہے توی کے بعد دیگرے عید کی نماز چندمرتبہ مسجد میں پڑھتے ہیں، اس طرح کرنا در ست ہے یا نہیں؟ اس میں مسجد و غیر مسجد کا فرق ہے یا نہیں؟
Answer
یورپ و امریکہ میں عید کی نماز عام طور پر تین قسم کی جگہوں پر پڑھی جاتی ہے:
(۱) جماعت خانہ میں جہاں نماز ِ پنجگانہ، نماز ِ جمعہ وغیرہ پڑھی جاتی ہیں، مگر اس کو مسجد شرعی کی نیت سے نہیں خریدا گیا، یعنی زمین وقف کی نہیں ہوتی، اور لوگ اپنے اپنے وقت میں نماز پڑھ کر چلے جاتے ہیں ۔
اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں تکرارِ جماعت مکروہ نہیں ہے ۔
(۲) عید گاہ یعنی کھلے میدان میں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے یا بعض جگہوں پر نماز ِ عید کے لیے کوئی بڑا ہال کرایہ پر لیا جاتا ہے ۔ اس کا حکم بھی یہی ہے کہ اس میں تکرارِ جماعت مکروہ نہیں ہے ۔
(۳) مسجد شرعی: ۔ اس کا عمومی حکم یہ ہے کہ جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے، لیکن امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک ہیئتِ اولیٰ کی تبدیلی کے ساتھ بلا کراہت جائز ہے ۔
در مختار میں ہے:
ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق ومسجد لا إمام له ولا مؤذن. وفي الشامية: عبارته في الخزائن
أو كان مسجد طريق جاز إجماعاً كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجاً فوجاً والمراد بمسجد المحلة ماله إمام وجماعة معلومون كما في الدرر وغيرها. (الدر المختار مع الشامي: ۱/۵۵۳، سعيد).
نیز مذکور ہے:
وقدمنا في باب الأذان عن آخر شرح المنية عن أبي يوسف رحمه الله أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره، وإلا تكره وهو الصحيح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة، كذا في البزازية، انتهى، وفي التاتارخانية: عن الولوالجية: وبه نأخذ. (شامي: ۱/۵۵۳، سعيد).
شرح منیۃ المصلی میں ہے:
وأما من حيث جواز التعدد وعدمه فالأولى هو الاحتياط لأن الخلاف فيه أقوي إذا الجمعة جامعة للجماعات (وهكذا العيد) ولم تكن في زمن السلف تصلي إلا في موضع واحد من المصر وكون الصحيح جواز التعدد للضرورة للفتوي لا يمنع شرعية الاحتياط للتقوي. (شرح منية المصلي: ۵۵۲، سهيل).
خلاصہ بہشتی زیور میں ہے:
اسی طرح مکروہ تحریمی ہے ہر فرض کی دوسری جماعت ان چار شرطوں سے:
(۱) مسجد محلہ کی ہو اور عام رہ گزر نہ ہو، اور مسجد محلہ کی یہ تعریف لکھی ہے کہ وہاں کا امام اور نماز ی معین ہوں ۔
(۲) پہلی جماعت بلند آواز سے اذان و اقامت کہہ کر پڑھی گئی ہوں ۔
(۳) پہلی جماعت ان لوگوں نے پڑھی ہوں جواس محلہ میں رہتے ہوں اور جس کو اس مسجد کے انتظام کا اختیار حاصل ہے ۔
(٤) دوسری جماعت اس ہیئت اور اہتمام سے ادا کی جائے جس ہیئت و اہتمام سے پہلی جماعت ادا کی گئی ہے، اور یہ چوتھی شرط امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک ہے، یعنی دوسری جماعت اس ہیئت سے ادانہ کی جائے جس ہیئت سے پہلی جماعت ادا کی گئی ہے تو دوسری جماعت مکروہ نہ ہو گی ۔ (دین کی باتیں: ۱۱۰) ۔
معلم الفقہ میں ہے:
سوال: جمعہ کی جماعت ہو جانے کے بعد ۱۰، ۱۵ آدمی آ گئے یہ لوگ اسی مسجد میں جمعہ مع خطبات سے پڑھیں یا باجماعت جماعت ظہر ادا کریں؟
جواب: چونکہ تعددِ جماعت جمعہ بمذہب صحیح جائز ہے اور بروز جمعہ جس شخص پر جمعہ فرض ہے اس کو ظہر پڑھنا درست نہیں ہے اس لیے ان کو چاہیے کہ جمعہ بجماعت مع خطبہ ادا کریں اسی مسجد میں ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اولیٰ یہ ہے کہ دوسری مسجد میں ہوں ۔ (معلم الفقہ ترجمہ مجموعۃ الفتاوی: ۳۷۲) ۔
لیکن
"الوصية الإخوانية في حكم الجماعة الثانية"
میں مفتی رشید احمد صاحب رحمه الله نے عدم جواز کو ترجیح دی ہے اور ایک اثر نقل فرمایا ہے: "
عن خرشة بن الحر أن عمر رضي الله عنه كان يكره أن يصلي بعد صلاة الجمعة مثلها" (رواه الطحاوي بسند صحيح: ۱/۲۳٤، في باب التطوع بعد الجمعة كيف هو )
اس سے ظاہر ہے کہ ہیئت اولیٰ پر دوبارہ نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔
پھر مذکورہ رسالہ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:
جماعتِ ثانیہ کا عام رواج جو ہو گیا ہے اس میں مندرجہ ذیل قبائح ہیں:
(۱) حضور اکرم ﷺ اور حضرات صحابہ کرام کے طریق سے مخالفت ۔
(۲) جماعت کی تقلیل اور تہاون ۔
(۳) جماعت اصلیہ کے ساتھ شرکت میں تکاسل اور اس کی عادت پڑ جانے کا سبب ۔
(٤) افتراق کی صورت اور اس کا سبب ۔ (خاص طور پر عید کی نماز جو کہ اعلام الدین میں سے ہے اور تمام مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کا مظہر ہے) ۔ (احسن الفتاوی: ۳/۳۲۵، ۳۲۸، "
الوصية الإخوانية في الحكم الجماعة الثانية"
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ دفع حرج کی وجہ سے مثلاً مسجد چھوٹی ہے اور مجمع بڑا ہے اور دوسرا کوئی انتظام بھی نہیں ہو سکتا ہے تو عیدین کی نماز مکرر پڑھنا جائز ہے چاہے مسجد میں ہو یا عید گاہ وغیرہ میں، لیکن محض تساہل اور سستی کی خاطر ہر گھنٹہ نماز پڑھنا جیسا کہ یورپ کی بعض مساجد میں ہوتا ہے یہ درست نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.