رمضان میں نماز ِ عشاء مقام تراویح پر پڑھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 2 #163Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

رمضان میں ایک علاقہ میں متعدد مقامات پر نماز ِ تراویح پڑھی جاتی ہے، مثلاً درس گاہوں میں، ہال میں، اور مختلف گھروں میں پڑھی جاتی ہے، اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا ان حضرات کو عشاء کی فرض نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر تراویح کے لیے جانا چاہیے یا فرض نماز بھی اپنے مقام پر جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ اس مسئلہ میں ہمارے یہاں کچھ اختلاف کی شکل ہو رہی ہے صحیح حکمِ شرعی بیان فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ افضل اور بہتر یہ ہے کہ نماز ِ عشاء مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بعد تراویح کے لیے اپنے مقامِ تراویح پر چلے جائیں، کیوں کہ یہاں دو علیحدہ سنتیں ہیں؛ (۱) فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا ۔ (۲) فرض کی جماعت مسجد میں ہونا ۔ لہذا بلا عذر فرض نماز مسجد میں با جماعت نہ پڑھنے کی وجہ سے ایک سنت متروک ہو گی اور اس کا ثواب نہیں ملے گا، ہاں اگر کوئی عذر ہے ۔ مثلاً: مقامِ تراویح مسجد سے کافی دور ہے اور سواری کا انتظام نہیں ہے یا قریب ہے لیکن رات کے وقت چل کر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے، یا فرض نماز کے بعد مسجد سے نکلنا انتشار کا باعث بنتا ہو تو ان صورتوں میں مقامِ تراویح پر نماز ِ عشاء باجماعت پڑھنے سے ان شاء اللہ پورا ثواب مل جائے گا ۔
ہاں نماز ِ تراویح با جماعت مسجد میں پڑھنا سنت علی الکفایہ ہے اس وجہ سے بعض حضرات مسجد میں پڑھ لیں گے تو سنت علی الکفایہ ادا ہو جائے گی، پھر دوسرے حضرات اپنے اپنے مقام پر تراویح کی جماعت کر سکتے ہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ ہاں مسجد کا ثواب نہیں ملے گا ۔
ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

اختلف العلماء في كونها سنة أو متطوعاً

روى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله أن التراويح لا يجوز تركها وقال الشهيد: هو الصحيح وفي جوامع الفقه التراويح سنة موكدة والجماعة فيها واجبة وكذا في المكتوبات قال: وذكر في الروضة أن الجماعة فضيلة وفي الذخيرة عن أكثر المشايخ أن إقامتها بالجماعة سنة على الكفاية ومن صلى في البيت فهو تارك فضيلة المسجد وفي المبسوط لو صلى إنسان في بيته لا يأثم فعلها ابن عمر رضي الله عنه وسالم والقاسم وإبراهيم ونافع فدل هذا على أن الجماعة في المسجد سنة كفاية أي لا يظن بابن عمر رضي الله عنه ومن معه ترك السنة وهذا هو الصواب. (البناية في شرح الهداية: ۱/۸٦۷، ط: فيصل آباد، پاكستان).
فتاوى قاضيخان
میں ہے:

والحاصل أن الجماعة سنة على الكفاية، إن ترك أهل المسجد كلهم فقد أساؤوا وتركوا السنة، وإن أقيمت التراويح في المسجد بالجماعة وتخلف رجل من آحاد الناس وصلى في بيته، يكون تاركاً للفضيلة، ولا يكون مسيئاً ولا تاركاً للسنة. وفيه بعد أسطر: وإن صلي بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ، والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة فضيلة أخري، فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة، وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله الإمام أبو على النسفي رحمه الله، والصحيح أن أدائها بالجماعة في المسجد أفضل، لأن فيه تكثيراً للجماعة، وكذلك في المكتوبات. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۲۳۳، باب التراويح).

شرح منیۃ المصلی میں ہے:

وإن صلي أحد في بيته بالجماعة حصل لهم ثوابها وأدركوا فضلها، ولكن لم ينالوا فضل الجماعة التي تكون في المسجد لزيادة فضيلة المسجد وتكثير جماعته وإظهار شعائر الإسلام، وهكذا في المكتوبات أي الفرائض، لو صلى جماعة في البيت على هيئة الجماعة في المسجد نالوا فضيلة الجماعة وهي المضاعفة بسبع وعشرين درجة. (شرح منية المصلي، ص: ٤۰۲، سهيل، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ۲۸٦، باب الإمامة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.