عشاء پڑھے بغیر تراویح کی جماعت میں شرکت کا حکم:
Question
اگر کوئی آدمی رمضان میں مسجد میں آیا اور تراویح کی نماز ہو رہی تھی اور اس نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی تو کیا وہ جماعتِ تراویح میں شرکت کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے لیے جماعتِ تراویح میں شرکت کی گنجائش نہیں ہے پہلے فرض نماز پڑ ہے پھر شرکت کرے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ووقتها بعد صلاة العشاء إلى الفجر وفي الشامية: (بعد صلاة العشاء) قدر لفظ صلاة إشارة إلى أن المراد بالعشاء صلاة لا وقتها وإلى ما في النهر من أن المراد ما بعد الخروج منها حتى لو بني التراويح عليها لا يصح وهو الأصح، وكذا بنائها على سنتها كما في الخلاصة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤٤، باب الوتر والنوافل، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۱٥، فصل في التراويح. وتبيين الحقائق: ۱/۱۷۸، باب الوتر والنوافل).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.