عیدین کی نماز شہر کے پارک میں ادا کرنے کا حکم:
Question
اگر نماز ِ عید ب جائے صحرا ء کے شہر کے میدان یا پارک میں ادا کی تو عید گاہ کی سنت ادا ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عیدین کی نماز کو آبادی سے باہر نکل کر عید گاہ یا میدان میں ادا کرنا سنت ہے، آنحضور
ﷺ
اور خلفاء راشدین
ث
نے مسجدِ نبوی کی فضیلت چھوڑ کر عید گاہ میں پڑھنے کا اہتمام فرمایا، لہذا بلا کسی عذر کے مساجد میں عیدین کی نماز نہیں پڑھنا چاہیے خلافِ سنت ہے، ہاں شہر کے میدان یا پارک وغیرہ میں عیدین کی نماز پڑھنے سے سنت ادا ہو جائے گی ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال كان النبي ﷺ يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلي فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم
(رواه البخاري: ۱/۱۳۱/۹٤٦ باب الخروج إلى المصلي بغير منبر)
اس حدیث کی شرح میں علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:
أن البروز إلى المصلي والخروج إليه، ولا يصلي في المسجد إلا عن ضرورة، وروي ابن زياد عن مالك رحمه الله قال: السنة الخروج إلى الجبانة إلا لا هل مكة ففي المسجد، وقال الشافعي رحمه الله "في الأم": بلغنا أن رسول الله ﷺ كان يخرج في العيدين إلى المصلي بالمدينة وكذا من بعده إلا من عذر مطر ونحوه، وكذا عامة أهل البلدان إلا مكة، شرفها الله تعالى. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ٥/۱۷۱، باب الخروج إلى المصلي، دار الحديث ملتان)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان میں عیدین کی نماز پڑھنا سنت ہے ۔ یہی آنحضور
ﷺ
اور آپ کے خلفاء راشدین
ث
کا طریقہ تھا ۔ نیز ابن ماجہ شریف کی روایت میں ہے کہ نبی پاک ﷺ نے کھلے میدان میں نماز ِ عید ادا فرمائی اور سترہ کے لیے نیز ہ سامنے گاڑ دیا گیا اس لیے کہ نہ دیوار تھی نہ چھت تھی ۔
ملاحظہ ہو ابن ماجہ شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ كان يغدو إلى المصلي في يوم عيد والعنزة تحمل بين يديه فاذا بلغ المصلي نصبت بين يديه فيصلي إليها وذلك أن المصلي كان فضاء ليس فيه شيء يستتر به. (رواه ابن ماجه: ۹۲، باب ما جاء في الحرية يوم العيد)
اعلاء السنن میں ہے:
وأخرج الطبراني في الكبير بضعف عن علي رضي الله عنه قال: الخروج إلى الجبان في العيدين من السنة كذا في جمع الفوائد: (۱/۱۰۷) وانجبر ضعفه بماله من الشواهد
وفي الدر المختار والخروج إليها أي الجبانة لصلاة العيد سنة، وان وسعهم المسجد الجامع. (إعلاء السنن: ۸/۱۱۲/۲۱۱۰، باب الخروج يوم الفطر والأضحى إلى المصلي إلا لعذر، إدارة القرآن. كذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٥۳۱ باب أحكام العيدين، قديمي. وعمدة الفقه: كتاب الصلاة حصه دوم: ٤٦۰. وفتاوى محمودية: ۸/٤۰٤ باب العيدين، جامعه فاروقيه)
کھلے میدانوں میں عید کی نماز پڑھنے پر اشکالات:
(۱) یہ جگہ اکثر شہر سے باہر نہیں ہوتی؟
(۲) یہ جگہ وقف شدہ نہیں ہوتی؟
(۳) عید کی نماز ختم ہونے کے بعد وہاں سیاح اور عورتیں اور کبھی کبھی جانور گھومتے ہیں، بلکہ اس میں جانوروں کی نمائش ہوتی ہے اور ناجائز امور بھی ہوتے ہیں اس لیے وہ میدان ناپاک بھی ہو جاتا ہے ۔
اکابر رحمه الله کی عبارات سے جوابات:
زمانہ گذشتہ میں اس قسم کے اشکالات بعض مقامی حضرات نے تحریراً حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی اور مفتی اسماعیل بن محمد صاحب بسم اللہ مفتی جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سملک کی خدمت میں پیش کیے تھے، تو ان دونوں حضرات نے مفصل جواب مرحمت فرمایا ۔ جس کی نقل ہمارے پاس موجود تھی لہذا مناسب سمجھا کہ برکت کے طور پر اسی کا خلاصہ پیش کر دیا جائے، ملاحظہ ہو حضرت مفتی اسماعیل بسم اللہ رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے:
(۱) یہ صحیح ہے کہ عید گاہ شہر سے باہر ہو مگر عید گاہ وسط شہر میں ہو یا آ جائے یا وسط شہر میں کوئی میدان برائے نمازِ عید تجویز کیا جائے اور وہاں با قاعدہ نماز ِ عیدین کے لیے جو سنت باہر جانا ہے وہ ایسی حالت میں بھی ادا ہو جائے گی اور نماز بطریق مسنون ادا شدہ یقیناً کہی جائے گی اور دلیل دیکھنا ہو تو: (
وفاء الوفاء: ۳/۷۸۰).
نیز فتح الباری ملاحظہ فر مائیں:
وحكي ابن بطال عن ابن حبيب أن مصلى الجنائز بالمدينة كان لاصقا بمسجد النبي ﷺ من ناحية جهة المشرق. انتهى، فإن ثبت ما قال والا فيحتمل أن يكون المراد بالمسجد هنا المصلى المتخذ للعيدين والاستسقاء. (فتح الباري شرح صحيح البخاري: ۳/۱۹۹، باب الصلاة على الجنائز بالمصلى والمسجد، دار نشر الكتب الإسلامية)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی عید گاہ بالکل شہر سے باہر نہیں تھی ایسی حالت میں متعین جگہ میں نماز ِ عیدین ادا کرنا بلا شک و شبہ جائز ہے بلکہ بطریقِ مسنون صحیح ہے ۔ کیوں کہ جب گورنمنٹ غیر مسلم ہے عید گاہ کے لیے جگہ دیتی نہیں یہ عمدہ میدان بلا اجرت برائے نماز عیدین مل رہا ہے تو کیوں موقع کو جانے دیا جائے ضرور وہاں متفقہ طور پر جا کر نمازِ عیدین ادا کی جائے ۔ تاکہ شانِ اجتماعی مسلمانوں کی معلوم ہو اور غیر قوموں پر اثر بھی پڑے، ایسی حالت میں روکنے کی تجویز بلا وجہ اعتراض کر کے لگانا جائز اور درست نہیں ۔
(۲) یوں کہنا کہ جگہ کا وقف ہونا صحتِ صلاۃ عید کے لیے شرط ہے غلط ہے کیوں کہ نماز ِ عید فرض نہیں، صاحبین رحمه الله سنتِ مؤکدہ فرماتے ہیں اور امام صاحب رحمه الله واجب فرماتے ہیں جو صحیح ہے اور مفتی بہ ہے، اور ظاہر ہے کہ جب نماز ِ فرض عین کے لیے جگہ کا وقف ہونا ضروری نہیں:
لقول رسول الله ﷺ "جعلت لي الأرض كلها مسجد ًا (مشكوة: ٥٤)
تو پھر دیگر نماز کے لیے کیسے شرط اور ضروری ہو گی علاوہ ازیں عام طور پر تمام فقہاء احناف بالاجماع و بالاتفاق یہی فرماتے ہیں کہ سوائے خطبہ کے نماز ِ عیدین کے لیے بھی وہی تمام شرائط ہیں جو جمعہ کے لیے ہے،
ملاحظه: شامي مع در مختار ۲/۱٦٦، بحر شرح كنز ۲/۱٤۰، هداية أولين وغيرهم.
اور شرائطِ جمعہ کے لیے علاوہ چند شرائط کے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مصر یعنی شہر ہو یا فناء مصر ہو صاحب بحر شارح کنز جلد ثانی میں فرماتے ہیں: أو
مصلاه أي مصلي المصر لأنه من توابعه فكان في حكمه والحكم غير مقصور على المصلي بل يجوز في جميع أفنية المصر. (البحر الرائق: ۲/۱٤۰ باب الجمعة)
اس سے معلوم ہوا کہ فناء مصر کے ہر ایک حصہ میں جس طرح جمعہ صحیح ہے عید بھی صحیح ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ فناء کا وقف ہونا ضروری نہیں ہے ۔
والفناء في اللغة سعة أمام البيوت وقيل ما امتد من جوانبه كذا في المغرب (البحر الرائق: ۲/۱٤۰)
علاوہ ازیں فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز ِ جمعہ قلعہ وغیرہ میں اگر اذنِ عام ہو تو پڑھنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ:
شامي مع در مختار ۲/ ومراقي الفلاح وغيره.
ایسی حالت میں صحتِ نماز عید کے لیے جگہ کا وقف ضروری قرار دینا اور عوام کو ادائیگی سنتِ مؤکدہ سے روکنا جائز اور درست نہیں ۔ شریعت نے جس چیز کو ضروری قرار نہ دیا ہو اس کو اپنے من گھڑت طریقہ سے ضرور ی قرار دینا شریعت پر جسارت اور انتہائی درجہ کی جسارت ہے جو کبھی معاف نہیں ہو سکتی ۔
(۳) احناف کا متفقہ مسئلہ ہے کہ ناپاک شدہ ز میں سوکھ جائے تو وہ جگہ برائے نماز پاک ہو جاتی ہے اور وہاں نماز پڑھنا بلا کسی کراہت جائز اور درست ہے:
وتطهر الأرض بيبسها وذهاب أثرها كلون وريح لا جل صلاة على ها، وفي الشامي: قوله بيبسها لما في سنن أبي داود باب طهور الأرض إذا يبست وقوله أي جفافها المراد به ذهاب الندوة. (الدر المختار مع الشامي: ۱/۳۱۱ باب الأنجاس، سعيد)
مراقی الفلاح میں ہے:
وإذا ذهب أثر النجاسة عن الأرض وجفت جازت الصلاة على ها، قوله وقد جفت ولو بغير الشمس على الصحيح طهرت وجازت الصلاة عليها لقوله ﷺ: أيما أرض جفت فقد زكت. (مراقي الفلاح مع نور الإيضاح: ٦٥ باب الأنجاس والطهارة عنها، مكة المكرمة)
ایسی حالت میں یوں کہنا کہ وہاں جانوروں کی نمائش ہونے کی وجہ سے ناپاک ہے صحیح نہیں، سوکھ جانے سے برائے نماز جگہ پاک ہے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم و علمہ اتم ۔ کتبہ: احقر الوریٰ اسماعیل بن محمد بسم اللہ ۔ (جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سملک ضلع سورت ۱۴/ رمضان ۱۳۷۸ھ، ۲۴/ مارچ ۱۹۵۹ء ۔ الجواب صحیح عبد الغفور غفر له و عبد الحی بسم اللہ عفی عنہ)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کا جواب ملاحظہ فرمائیں:
اقول و باللہ التوفیق مولانا مفتی بسم اللہ صاحب کا جواب دربارہ عید گاہ بالکل صحیح اور کافی وافی ہے پھر مفتی صاحب موصوف نے زیادہ وضاحت اور مکمل ثبوت پیش فرما دیا اس کے بعد کسی مزید اضافہ کی ضرورت نہیں، صرف ایک مختصر عبارت علامہ ابن قیم کی زاد المعاد سے نقل
كرتا ہ
وں:
كان ﷺ يصلي العيدين في المصلي وهو المصلي الذي على باب المدينة الشرقي وهو المصلي الذي يوضع فيه محمل الحاج، ولم يصل العيد بمسجده إلا مرة واحدة أصابهم المطر فصلى بهم العيد في المسجد. (رواه أبو داود وابن ماجه كذا في زاد المعاد ۱/٤٤۱ فصل في هديه صلي الله عليه وسلم في العيدين، مؤسسة الرسالة)
علامہ ابن قیم رحمه الله نے جو روایت بحوالہ ابو داؤد و ابن ماجہ نقل کی ہے اس سے چند باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(۱) آنحضرت ﷺ کی عید گاہ کہیں شہر سے دور نہیں تھی بلکہ مدینہ طیبہ کے دروازہ شرقی کے متصل واقع تھی جو اس وقت تو زمانہ دراز سے وسط شہر میں آ گئی ہے لہذا عہدِ نبوی میں اگر وسط شہر میں نہیں تو بالکل شہر سے متصل ضرور تھی ۔
(۲) آنحضرت ﷺ کی عید گاہ ایک ایسا میدان تھا جس میں حجاج کے اونٹ بیٹھتے اور ان کے شغوف رکھے جاتے تھے جس سے یہ ظاہر ہے کہ یہ زمین نماز ِ عید کے لیے وقف نہیں تھی ۔
(۳) آنحضرت ﷺ نے تمام عمر نماز ِ عید ایسی مسجد چھوڑ کر اس میدان میں ادا فرمائی صرف ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے اپنی مسجد میں ادا فرمائی ہے، حالانکہ مسجدِ نبوی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے ۔
امورِ مذکورہ بالا میں مخالفت کرنے والوں کے سب سوالوں کے جوابات ہیں اور ان سے یہ ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے عیدین کی نماز کو مسجد میں پڑھنا درست نہیں سمجھا ۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ، دار العلوم کراچی، ۶/رمضان ۱۳۷۹ ھ، ۴/مارچ ۱۹۶۰ ء ۔
مذکورہ بالا ان اکابر حضرات کے فتاوی کے بعد مزید کسی قسم کی تفصیل کی چنداں حاجت و ضرورت باقی نہیں رہتی، تاہم اگر کوئی مزید تفصیل کا خواہاں ہو تو ملاحظہ ہو :
"خلاصة الوفاء بأخبار دار المصطفي: ۱/۱۸۱. ۱۸۸"
پر علامہ سمہودی رحمه الله نے آنحضرت ﷺ کی عید گاہ کے جائے وقوع کے بارے میں مکمل تحقیق فرمائی ہے ۔
نیز دیگر اکابر کے مختلف فتاوی بھی موجود ہیں مثلا حضرت مفتی نظام الدین صاحب رحمه الله، حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب رحمه الله، حضرت مفتی رشید صاحب رحمه الله صاحبِ احسن الفتاوی، حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب مد ظلہ جن کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں رسالہ "عید گاہ کی سنیت" از حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اعظمی مد ظلہ ۲۹ـ ۔ ٤۱ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.