پارک میں جمعہ پڑھنے کا حکم:
Question
ہم نے جمعہ کی نماز ایک پارک میں پڑھی جو گراہمسٹون (Grahamstown) کی آبادی سے تقریباً ٤۰ کلومیٹر دور ہے، اس پارک میں کوئی مسجد نہیں ہے البتہ ایک جماعت خانہ ہے جس میں تقریباً ۸۰ آدمیوں کی گنجائش ہے اس پارک میں دس پندرہ مزدور رہتے ہیں ۔ کیا اس پارک میں ہماری نماز جمعہ درست ہوئی یا نہیں؟ جب کہ عام طور پر اس جگہ نماز جمعہ نہیں پڑھی جاتی ۔
Answer
مذہب احناف کے مطابق صحتِ جمعہ کے لیے شہر یا قصبہ ہونا شرط ہے ہر جگہ جمعہ صحیح نہیں ہے اور صورتِ مسئولہ میں پارک نہ شہر ہے اور نہ قصبہ بلکہ اطراف میں بھی کوئی بڑا شہر نہیں ہے لہذا اس پارک میں نماز جمعہ صحیح نہیں ہوئی ۔ ملاحظہ ہو مصنفِ ابن ابی شیبہ میں ہے:
عن أبي عبد الرحمن قال: قال علي رضي الله عنه: لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع. وعن الحارث عن علي رضي الله عنه قال: لا جمعة ولا تشريق، ولا صلاة فطر ولا أضحي إلا في مصر جامع أو مدينة عظيمة. (مصنفِ ابن أبي شيبة: ٤/٤٦، كتاب الصلاة، من قال لا جمعة
)
وفي الهداية: لا تجوز في القري. (الهداية: ۱/۱٦۸)
شامی میں ہے:
عن أبي حنيفة رحمه الله أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها والٍ يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الصحيح. (شامي: ۲/۱۳۷، باب الجمعة، سعيد)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جہاں بالکل آبادی ہی نہ ہو اور وہ جگہ کسی بڑی آبادی کے قریب نہ ہو وہاں بالاتفاق جمعہ صحیح نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۵۸، مدلل و مکمل، دار الاشاعت)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۸/۱٤٤، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.