بڑے شہر یا قصبہ میں مسلمانوں کی آبادی کم ہو تو جمعہ پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #414Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٦): نمازِ جمعہ کا بیان

Question

مذہبِ احناف کے مطابق بڑے شہر یا قصبہ میں غیر مسلم زیادہ آباد ہیں اور مسلمان بہت کم ہے تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں بڑے شہر یا قصبہ میں جہاں شرائطِ جمعہ موجود ہوں تو جمعہ پڑھنا فرض اور ضروری ہے اگر چہ مسلمانوں کی آبادی کم ہوں اس لیے کہ احناف کے نزدیک ٤۰، افراد کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

قوله: والجماعة وهم ثلاثة أي شرط صحتها أن يصلي مع الإمام ثلاثة فأكثر لإجماع العلماء على أنه لا بد فيها من الجماعة كما في البدائع وإنما اختلفوا في مقدارها فما ذكره المصنف رحمه الله قول أبي حنيفة رحمه الله ومحمد رحمه الله وقال أبو يوسف رحمه الله: اثنان سوى الإمام لا نهما مع الإمام ثلاثة وهي جمع مطلق ولهذا يتقدمهما الإمام ويصطفان خلفه ولهما أن الجمع المطلق شرط انعقاد الجمعة في حق منهم وشرط جواز صلاة منهم ينبغي أن يكون سواه فيحصل هذا الشرط ثم يصلي ولا يحصل هذا الشرط إلا إذا كان سوى الإمام ثلاثة. (البحر الرائق: ۲/۱٥۰، باب صلاة الجمعة، الماجدية. وكذا في الشامي: ۲/۱٥۱، باب الجمعة، سعيد. وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٥۱۱، قديمي)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس بستی میں جمعہ کی شرائط موجود ہوں وہاں یہ ضروری نہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت ہو یا مسلمان کثیر تعداد میں موجود ہوں، بلکہ اگر چار پانچ ہی مسلمان ہوں تو ان کو بھی جمعہ ادا کرنے کا حق حاصل ہے ان کو چاہیے کہ جمعہ ادا کریں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/٤٦، باب صلاۃ الجمعہ، جامعہ فاروقیہ)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/٦۵، ۱۰۹، مدلل مکمل، دار الاشاعت ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.