قصبہ اور اس کے ملحقات میں جمعہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #412Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٦): نمازِ جمعہ کا بیان

Question

زکریا پارک اور اس کے ساتھ ملحقہ آبادی میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

زکریا پارک اور اس کے ساتھ ملحقہ آبادی میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں، بلکہ قائم کرنا ضروری ہوگا ۔ کیوں کہ اس میں اکثر ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، اور اس کی آبادی تین چار ہزار کے درمیان ہے، فقہائے کرام نے شہر اور بڑی بستی کی مختلف تعریفیں کی ہیں: علامہ عینی رحمه الله ہدایہ کی شرح بنایہ میں فرماتے ہیں:

وهذا تفسير المصر الجامع وقد اختلفوا فيه فعن أبي حنيفة رحمه الله ما يجمع فيه مرافق أهله. وعن أبي يوسف رحمه الله كل موضع فيه أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وهكذا روي الحسن رحمه الله عن أبي حنيفة رحمه الله في كتاب صلاته وفيه عن سفيان الثوري رحمه الله المصر الجامع ما يعد الناس مصراً عند ذكر الأمصار المطلقة كبخاري وسمرقند وقال الكرخي رحمه الله: هو ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام وهو اختيار الزمخشري رحمه الله وعن أبي عبد الله البلخي رحمه الله أنه قال: أحسن ما سمعت أنه إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعوا فيه فهو مصر جامع وعن أبي حنيفة رحمه الله هو بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ويرجع الناس إليه في ما وقعت لهم من الحوادث

(البناية للعلامة العيني رحمه الله: ۲/۹۸۲)

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ مصر کی چند تعریفیں ہیں:
(۱) جس میں ضرورت کی اشیاء ملتی ہوں ۔
(۲) جس میں امیر و قاضی ہوں جو اسلامی قوانین اور حدود نافذ کرتے ہوں ۔
(۳) جس کو عام لوگ شہر کہتے ہوں ۔
(٤) جس میں احکام شریعت اور حدود نافذ ہوتی ہوں ۔
(۵) جس کی بڑی مسجد میں مقامی لوگوں کو جمع کیا جائے تو مسجد تنگ دامنی کا شکوہ کر رہی ہو ۔
(٦) جس میں گلیاں کوچے اور بازار ہوں جس کی طرف لوگ بوقتِ ضرورت رجوع کرتے ہوں ۔
اس کے علاوہ دیگر تعریفیں بھی فقہاء سے منقول ہیں ۔ تاہم محققین علماء فرماتے ہیں کہ یہ سب شہر کی علامتیں ہیں جنہیں ہر مجتہد یا فقیہ نے اپنی صواب دید کے موافق بیان کی ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب کشمیری رحمه الله فرماتے ہیں:

والحاصل أن تفسير المصر محول على العرف واللغة
۔
مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
دو ہزار کی آبادی میں جمعہ: اگر دونوں گاؤں عرف میں ایک ہی سمجھے جاتے ہیں اور کل آبادی دونوں گاؤں کی دو ہزار آدمیوں کی ہے اور وہ بڑا قریہ سمجھا جاتا ہے تو جمعہ وہاں صحیح ہے ۔
كما في الشامي: وتقع فرضاً في القصبات والقري الكبيرة التي فيها أسواق. (
فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۵٦، مدلل و مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.