عذر کی وجہ سے مسجد میں جمعہ کی جماعتِ ثانیہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #173Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

رشیا میں ایک جگہ بارش کی کثرت کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کی نمازِ جمعہ فوت ہو گئی، کیوں کہ مسجد کے باہر صحن وغیرہ کا انتظام نہیں تھا، عام طور پر لوگ راستوں اور سڑکوں پر پڑھتے تھے، لیکن زیادہ بارش کی وجہ سے لوگ کھڑے رہے، نماز نہیں پڑھ سکے، تو کیا کرنا چاہیے؟ ظہر کی نماز پڑھنی چاہیے یا مسجد میں دوسرا جمعہ قائم کر سکتے ہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مذہبِ احناف میں عام حالات میں فقہاء نے مسجد میں جماعتِ ثانیہ کو مکروہ لکھا ہے لیکن بوقتِ عذر اجازت ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اس بستی کی دوسری مساجد میں بھی جمعہ ہو چکا ہو تو عذر کی وجہ سے اسی مسجد میں دوبارہ جمعہ قائم کرنا درست ہے، شہر میں مقیم حضرات کے لیے ظہر پڑھنا درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مرقوم ہے:

قوله ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين، أشار بالحيلولة إلى أن المراد المطر الكثير كما قيده به في صلاة الجمعة وكذا الطين، وفي الحلية وعن أبي يوسف رحمه الله سألت أبا حنيفة رحمه الله عن الجماعة في طين وردغة فقال: لا أحب تركها، وقال محمد في الموطأ: الحديث رخصة يعني قوله: إذ ابتلت النعال فالصلاة في الرحال والنعال هنا الأراضي الصلاب، وفي شرح الزاهدي عن شرح التمرتاشي واختلف في كون الأمطار والثلوج والأرحال والبرد الشديد عذراً وعن أبي حنيفة رحمه الله إن اشتد التأذي يعذر، قال الحسن: أفادت هذه الرواية أن الجمعة والجماعة في ذلك سواء ليس على ما ظنه البعض أن ذلك عذر في الجماعة لأنها سنة لا في الجمعة لأنها من آكد الفرائض. (فتاوى الشامي: ۱/۵۵۵، سعيد).

خیر الفتاوی میں مذکور ہے:
سوال: پندرہ بیس آدمی جمعہ کے روز اس وقت پہنچے جب کہ جمعہ ہو چکا تھا کیا یہ لوگ اس مسجد میں جمعہ مع خطبہ جماعت سے پڑھیں یا باجماعت ظہر ادا کریں؟
جواب: چونکہ تعددِ جمعہ بمذہبِ صحیح جائز ہے اور بروزِ جمعہ جس شخص پر جمعہ فرض ہے اس کو ظہر پڑھنا درست نہیں اس لیے ان لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ یا جماعت مع خطبہ ادا کریں، اگر اسی مسجد میں ہو تو بھی کوئی حرج نہیں، اور اولی یہ ہے کہ دوسری مسجد میں ہو۔ فتاوی عبد الحی، ص ۳۱۰ ۔ (خیر الفتاوی: ۳/۹۵، ط: امدادیہ، ملتان) ۔
کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے:
ہماری مسجد میں جمعہ کے لیے بہت سے لوگ آتے ہیں، جب مسجد بھر جاتی ہے تو کچھ لوگ جو تقریباً ۷۰ سے زائد ہوتے ہیں، مسجد کے اوپر چھت پر کھلے آسمان کے نیچے نمازِ جمعہ ادا کرتے ہیں، گذشتہ جمعہ بارش ہوتی رہی، کیا ایسی صورت میں اوپر کے لوگوں کو بارش میں بھیگتے ہوے نماز ادا کرنا چاہیے یا دوسری جماعت بنا کر پڑھنا چاہیے؟ ایسی صورت میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کا واضح طریقہ بتائیں؟
جواب: جو صورت آپ نے ذکر کی ہے، اس میں اولاً تو کوشش کرنی چاہیے کہ مسجد کی چھت کی بجائے اگر دوسری مسجد ہو تو وہاں یا مسجد کے علاوہ کوئی اور چھت والی جگہ ہو تو وہاں جمعہ کی دوسری جماعت کر لی جائے، لیکن اگر یہ دشوار ہو تو عذر کی وجہ سے دوبارہ جماعت کی گنجائش ہے، کیوں کہ خاص حالات میں فقہاء نے تکرار جماعت کی اجازت دی ہے۔ (کتاب الفتاوی: ۳/۸۱، ط: زمزم) ۔
کتاب المسائل میں مذکور ہے:
نماز ی زیادہ ہوں اور جماعت کے لیے اگر کوئی اور جگہ دستیاب نہ ہو، تو بارش کی شدت کی وجہ سے ایک ہی مسجد میں تکرارِ جماعت کی گنجائش ہے۔ فقط واللہ تعالی اعلم۔ (کتاب المسائل: ۱/٤۲۲، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.