مسجد کے صحن میں جماعتِ ثانیہ کا حکم:
Question
محلہ کی مسجد میں چند آدمی جماعت ہو جانے کے بعد پہنچے، اگر وہ لوگ مسجد کے صحن میں نماز پڑھیں تو جماعت کے ساتھ پڑھیں یا علیحدہ علیحدہ؟ بینوا توجروا ۔
Answer
محلہ کی مسجد میں جماعتِ ثانیہ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ مکروہ تحریمی ہے اور ہیئت بدل دی جائے تو کراہتِ تنزیہی کے ساتھ جائز ہے، اس کی وجہ یہ کہ اگر تکرارِ جماعت کی عام اجازت دے دی جائے تو پھر جماعتِ اولیٰ کی اہمیت باقی نہیں رہے گی، لہذا علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، ہاں مسجد کے صحن (جو مسجد سے خارج ہو) میں جماعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اس کی عادت نہ بنا لی جائے ۔
ملاحظہ ہو شمس الائمۃ علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
قال وإذا دخل القوم مسجد اً قد صلى فيه أهله كرهت لهم أن يصلوا جماعة بأذان وإقامة ولكنهم يصلون وحداناً بغير أذان ولا إقامة لحديث الحسن رحمه الله قال: كانت الصحابة رضي الله تعالى عنهم إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من اتبع الجماعات ومنهم من صلى في مسجد ه بغير أذان ولا إقامة، وفي الحديث أن النبي ﷺ خرج ليصلح بين الأنصار فاستخلف عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه فرجع بعد ماصلي فدخل رسول الله ﷺ بيته وجمع أهله فصلى بهم بأذان وإقامة فلوكان يجوز إعادة الجماعة في المسجد لما ترك الصلاة في المسجد والصلاة فيه أفضل ووهذا عندنا. (المبسوط للسرخسي: ۱/۱۳٥، باب الاذان)
نیز ملاحظہ ہو: (
فتاوى الشامي: ۱/٥٥۲ باب الإمامة، والفتاوى الهندية: ۱/۸۳ الفصل الاول في الجماعة، ومنحة الخالق حاشية البحر الرائق: ۱/۳٤٦ باب الإمامة الماجدية، كوئٹه)
امداد الاحکام میں ہے:
مسجدِ محلہ جس میں امام و مؤذن مقرر ہیں جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے مگر ہیئت کے تغیر کے ساتھ امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر گنجائش ہے ۔ لیکن ہمارے مشائخ نے انتظام عوام کے لیے اس پر فتوی نہیں دیا، بلکہ مسجدِ محلہ میں جہاں امام و مؤذن مقرر ہوں مطلقاً کراہت کا فتوی دیا ہے ۔ (امداد الاحکام : ۱/٤۹۷)
اسلامی فقہ میں ہے:
جس کسی مسجد میں امام و مؤذن مقرر ہوں اور باقاعدہ وہاں پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہے اسی میں اگر جماعت ختم ہو جائے اور جماعت کے بعد اسی مسجد کے نماز یوں میں سے دو تین نماز ی آ جائیں تو ان کو دو بارہ جماعت نہ کرنی چاہیے بلکہ الگ الگ نماز پڑھنی چاہیے، البتہ اگر جہاں جماعت ہو چکی ہو تو اس سے ذرا ہٹ کر دوبارہ جماعت سے نماز پڑھی گئی تو کوئی حرج نہیں ۔ (اسلامی فقہ: ۱/۲٤۵)
کفایت المفتی میں ہے:
جماعتِ ثانیہ اگر جماعتِ اولیٰ کی ہیئت پر ہو اور ایسی مسجد میں ہو کہ جس میں جماعت معینہ ہوتی ہے مکروہ تحریمی ہے اور اگر یہ بتبدیل ہیئت ہو تو مکروہ تنزیہی ہے، اول لفظ
"لا بأس"
یا لفظ جواز مکروہ تنزیہی کے منافی نہیں ۔ (کفایت المفتی: ۳/۱۳٤)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
فرادی بلا اذان و اقامت نماز ادا کی جائے کہ مسجد میں جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے ۔ بحوالہ مبسوط ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/۲۷، کتاب الصلاۃ)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ ٦/٤۳۷ باب الجماعۃ، جامعہ فاروقیہ و فتاوی حقانیہ ۳/۱۲٦، باب الجماعۃ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.