اسکول کے بچوں کے لیے جمعہ کی جماعتِ ثانیہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #152Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

بعض علاقوں میں مسلمان بچے غیر مسلم اسکولوں میں پڑھتے ہیں، اور اسکول والے جمعہ کی اجازت نہیں دیتے، تو ان بچوں کے والدین نے مسجد کی کمیٹی سے درخواست کی کہ ان کے لیے بعد میں مسجد کے صحن میں جماعتِ ثانیہ قائم کی جائے، اب سوال یہ ہے کہ مسجد کے صحن میں جماعتِ ثانیہ قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور امامِ راتب کو اس کے پڑھانے پر مجبور کرنا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

مسجد کے صحن میں جمعہ کی جماعتِ ثانیہ قائم کرنا جائز اور درست ہے، البتہ امامِ راتب کو مجبور نہیں کیا جائے گا، بلکہ اگر مسجد میں چند ائمہ ہوں تو باری باری جمعہ پڑھا دے یا مسجد کے امام کے علاوہ کوئی نیک آدمی مختصر خطبہ اور نماز پڑھا دے تب بھی صحیح اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مرقوم ہے:

ولو أمكنه الذهاب إلى إمام آخر فعل لأنها تؤدى بمصر واحد بمواضع كثيرة اتفاقاً فإن عجز صلى أربعاً. (الدر المختار: ۲/۱۷٦، سعيد).

جماعتِ ثانیہ مسجد کے باہر صحن میں جائز ہے، ہاں مسجد کے اندر مکروہ ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن. وفي الشامي: قوله يكره، أي تحريماً لقول الكافي لا يجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير أنه بدعة كما في رسالة السندي. (فتاوى الشامي: ۱/۵۵۲، سعيد).
وللمزيد راجع: (الفتاوى الهندية: ۱/۸۳، وشرح منية المصلي، ص ٦۱٤، سهيل).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
سوال: میں اردو گورنمنٹ اسکول ریاست مہاراشٹر میں مدرس ہوں، جمعہ کا وقت ساڑھے دس بجے سے دو بجے تک کے درمیان یعنی اسکول کی مصروفیت میں آتا ہے، اب ہم لوگ اسکول بند کر کے ویسے ہی جمعہ پڑھ لیا کرتے تھے، اب اس کے لیے آفیسر تنگ کرتے ہیں، ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ شام کو مدرسہ ڈھائی بجے سے ساڑھے پانچ بجے تک ہے اور نوکری کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے؟
جواب: کوشش کر کے کوئی ایسی جگہ تجویز کر لیں جہاں ڈھائی بجے جمعہ ہو جاتا ہو، فقط واللہ تعالی اعلم ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/۳٤، جامعہ فاروقیہ)۔
نیز مجموعۃ الفتاوی: ۱/۳۷۲، ط: میر محمد کتب خانہ، و امداد الاحکام: ۱/۷۸۳، و خیر الفتاوی: ۳/۹۵، میں بھی جمعہ کی دوسری جماعت کے جواز کا فتوی موجود ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.