مسجد کے لمبے کرتوں میں نماز پڑھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 2 #234Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۷): فیما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا

Question

آج کل مسجد میں لمبے کرتے رکھتے ہیں اور عوام جو کام کاج سے نماز کے لیے آتے ہیں وہ اس کو پہن کر نماز پڑھتے ہیں اور کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا مناسب نہیں سمجھتے تو اس طرح نماز پڑھنے میں کوئی کراہت ہو گی یا نہیں؟ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ عام مجمع میں ان کپڑوں سے نہیں جاتے لہذا نماز مکروہ ہونی چاہیے کیا یہ درست ہے؟

Answer

بظاہر ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے اس وجہ سے کہ ان کے لباس سے یہ زیادہ ساترِ بدن ہوتے ہیں ۔ پھر ان کپڑوں سے نماز میں ایک قسم کی عاجزی پیدا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کے دربار میں آئے تو خاص لباس میں عبادت ادا کی نہ کہ فیشن ایبل کپڑوں میں، پھر فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ آستین چڑھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور بعض فتاوی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بلا آستین کے کپڑوں میں بھی نماز مکروہ ہے جیسے فتاوی محمودیہ، فتاوی رحیمیہ وغیرہ لہذا ان کپڑوں سے نماز میں کراہت پیدا نہیں ہو گی ۔
اور بعض کا یہ خیال ہے کہ عام مجمع میں نہیں جاتے اس لیے مکروہ ہونا چاہیے ۔ تو اس سے وہ کپڑے مراد ہیں جو کام کاج میں پہنتے ہیں جو خستہ ہوتے ہیں ان کپڑوں کو پہن کر عام مجمع میں جانے سے شرم آتی ہے مثلاً ہمارے عرف میں اکثر دکانوں میں کام کرنے والے پہنتے ہیں تو ان کپڑوں میں نماز مکروہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:

وتكره الصلاة في ثياب البذلة ثوب لا يصان ولا يحفظ عن الدنس ونحوه ابتذال الثوب وغيره امتهانه وقيل: ما يلبس في البيت ولا يذهب به إلى الكبراء وكذا ثياب المهنة كحكمة في أوزانها وهي الخدمة والعمل فيحترز عنها تكميلاً لرعاية مقام الوقوف بين يدي الله سبحانه وتعالى بما أمكن من تجميل الظاهر والباطن وفي قوله تعالي: ﴿خذوا زينتكم عند كل مسجد ﴾ (سورة الأعراف: ۳۱) إشارة إليه وإن كان المراد به ستر العورة على ما ذكره أهل التفسير كما تقدم وقال في التجنيس تكره في ثياب البذلة لما روي أن عمر رضي الله عنه راٰي رجلاً فعل ذلك فقال: أرأيت لوكنت أرسلتك إلى بعض الناس أكنت تمر في ثيابك هذه؟ فقال: لا، فقال عمر رضي الله عنه: "الله أحق أن تتزين له". أخرجه البيهقي في سننه من حديث ابن عمر في الصلاة باب ما يستحب أن يصلي فيه من الثياب: ۲/۲۳٦، انتهى. (إمداد الفتاح شرح نور الإيضاح: ۳۸۷، فصل في المكروهات، بيروت)

شامی میں ہے:

والظاهر أن الكراهة تنزيهية. (شامي: ۱/٦٤۱، مكروهات الصلاة. وكذا في الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۳٥۹، فصل في مكروهات الصلاة، قديمي)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: نصف آستین کی قمیص سے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب حامداً و مصلیاً: حضرت نبی کریم
ﷺ
سے نصف آستین کی قمیص پہننا منقول نہیں ہے، ایسی قمیص خلافِ سنت ہے اس کہ پہن کر نماز پڑھنا بھی خلافِ سنت ہے (مکروہ ہے) ۔ (فتاوی محمودیہ ٦/
٦٥
٤ فصلِ ثانی مکروہاتِ نماز، جامعہ فاروقیہ ـ ۔ امداد الاحکام
۱/٥٦۳)

البتہ جو صرف آستین چڑھاتے ہیں وہ مناسب نہیں ہے پورا جبہ پہن کر نماز پڑھے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.