کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم:

9 min readFatwa Vol 2 #363Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٤): مریض اور معذور کی نماز کا بیان

Question

کرسی پر بیٹھ کر فرض نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

جب تک قیام پر قدرت ہو بیٹھ کر فرض نماز پڑھنا جائز نہیں اور سجدہ پر قدرت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے، جو حضرات قیام و سجدہ پر قدرت نہیں رکھتے ہیں ان کو اول حکم بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ہے، کرسی پر نماز پڑھنا درست نہیں ۔ اگر قیام پر قدرت ہو اور سجدہ پر قدرت نہ ہو تو قیام ساقط ہو جاتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کرسی پر نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے بلکہ قیام اس وجہ سے ساقط ہو تا ہے کہ اصل مقصود نماز میں سجدہ ہے اور قیام و رکوع اس کے لیے وسیلہ ہے اور اسی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے سجدہ کے سقوط کے وقت کیوں کہ قعود مشابہ بالسجود ہے اور اقرب الی الارض ہے حتی الامکان حصول مقصد کی طرف اشارہ ہے اس وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے اور کرسی پر نماز پڑھنے سے یہ افضلیت حاصل نہیں ہوتی ۔ ہاں اگر مریض کے لیے زمین پر بیٹھنا انتہائی تکلیف دہ ہو اور سجدے سے بھی عاجز ہو تو پھر بحالتِ مجبوری اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے، لیکن آج کل اس مسئلہ میں بظاہر بہت بے احتیاطی ہو رہی ہے، اس کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ نیز اس میں مندرجہ ذیل خرابیاں ہیں:
(۱) نماز غایت تذلل اور عاجزی کا نام ہے جیسا کہ الاشباہ میں مذکور ہے:
"وهي التذلل والخضوع على أبلغ الوجوه". (الأشباه والنظائر: ۱/۱٥
٤
)
اور کرسی پر اپنی شان کا اظہار ہے اگر چہ ارادہ نہ ہو ۔
(۲) اللہ کے سامنے اس طرح کھڑا ہو نا چاہیے جس طرح بادشاہ کے سامنے ۔ یعنی اپنی عاجزی کا اعتراف اور فقیر حقیر کی طرح ۔ جیسا کہ احیاء العلوم میں ہے:
"فقم بين يديه قيامك بين يدي بعض ملوك الزمان". (إحياء علوم الدين: ۱/۱۷۲)
اور کرسی میں یہ بات نہیں ۔ شریعتِ اسلامیہ نے انسان کے ضعف کو تسلیم کیا ہے، اور اس کے مختلف حالات بیان کیے ہیں کہ معذور ہو بیٹھ کر پڑھے اور صحیح قول یہ ہے کہ جس طرح بھی بیٹھ سکتا ہے بیٹھے اور زمین پر بیٹھے جیسا کہ حدیث میں بھی اس کا حکم ہے:
"صل على الأرض". (السنن الكبرى للبيهقي: ۲/٤۳٥)
(
۳) زمانۂ نبوی اور خیر القرون میں سے کسی بھی زمانہ میں کوئی جزئیہ ایسا نہیں ملتا کہ اس قسم کا ثبوت ہو، معذور ومریض اس وقت بھی تھے اور کرسی بھی اسوقت موجود تھی جیسا کہ مسلم اول وابو داؤد اول کی روایت میں کرسی کا تذکرہ آتا ہے اس کے باوجود نماز پڑھنا ثابت نہیں ۔ لہٰذا اس مسئلہ پر مزید غور کر نے کی ضرورت ہے کہ مساجد میں کرسیوں کو رکھا جائے؟ اس لیے کہ یہ دستور ہو چکا ہے اور کرسی کو دیکھ کر ذرا سی بات پر جرأت ہوتی ہے اور کرسی پر نماز پڑھ لیتے ہیں اور محض سستی کی وجہ سے کرسیوں پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ نماز میں سستی کر نے کو منافقین کی علامت قرار دیا ہے اور مذمت فرمائی ہے ۔
قال الله تعالي: ﴿وإذا قاموا إلى الصلاة قاموا كسالى يرآءون الناس ولا يذكرون الله إلا قليلا﴾ (سورة النساء: الآية: ۱٤۲)
موجود ہ دور میں جب کہ نفاذِ شریعت کا ہتھیار مسلمانوں کے پاس چند گنی چنی عبادات کے علاوہ کچھ نہیں اور ان میں بھی صوم و حج تو سال میں ایک مرتبہ اسی طرح زکاۃ بھی اور یہ دونوں بھی مخصوص افراد کے ساتھ کلی طور پر نہیں ۔ کلی طور پر جو حاوی ہے وہ فقط نماز ہے اگر اس کو بھی اس طرح ضائع کر دیا تو مسلمانوں کے لیے بڑی درد ناک و افسوس کی بات ہے ۔ ملاحظہ ہو بیہقی میں ہے:

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: إن رسول الله ﷺ عاد مريضاً فرأه يصلي على وسادة فأخذها فرمي بها فأخذ عوداً ليصلي عليه فأخذه فرمي به وقال: صل على الأرض إن استطعت وإلا فأوم إيماء واجعل سجودك أخفض من ركوعك". (السنن الكبرى للبيهقي: ۲/٤۳٥)

طحطاوی میں ہے:

إذا تعذر على المريض كل القيام أو تعسر كل القيام بوجود ألم شديد كدوران رأس ووجع ضرس أو شقيقة أو رمد كما في القهستاني وسواء حدث ذلك في الصلاة أو قبلها كما في "النقاية" وقيده بالشديد لأنه إن لحقه نوع من المشقة لم يجز ترك القيام كما في "مسكين" أو خاف بأن غلب في ظنه بتجربة سابقة أو إخبار طبيب مسلم حاذق

صلي قاعداً بركوع وسجود ويقعد كيف شاء أي كيف تيسر له بغير ضرر من تربع أو غيره في الأصح من غير كراهة كذا روي عن الإمام للعذر، وإن تعذر الركوع والسجود وقدر على القعود ولو مستنداً صلى قاعداً بالإيماء وجعل إيماء ه برأسه للسجود أخفض من إيمائه للركوع وكذا لو عجز عن السجود وقدر على الركوع يومي بهما لأن النبي ﷺ عاد مريضاً فرأه يصلي على وسادة فأخذها فرمي بها

الخ (صلي قاعداً بإيماء) أو قائماً به والأول أفضل لأنه أشبه بالسجود ولكونه أقرب إلى الأرض وهو المقصود كذا في "التبيين". (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۱/۲۳٤، قديمي)

شامی میں ہے:
(
وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطاً بل تعذر السجود كافٍ) نقله في "البحر" عن "البدائع" وغيرها وفي "الذخيرة": رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعداً يومي ولو صلى قائماً بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. (شامي: ۲/۹۷، سعيد)

عالمگیری میں ہے:

إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعداً يركع ويسجد كذا في الهداية وإن عجز عن القيام والركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعداً بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع كذا في فتاوى قاضيخان، ثم إذا صلى المريض قاعداً كيف يقعد الأصح أن يقعد كيف يتيسر عليه هكذا في "السراج الوهاج" وهو الصحيح، هكذا في "العيني" وإذا لم يقدر على القعود مستوياً وقدر متكئاً أو مستنداً إلى حائط أو إنسان يجب أن يصلي متكئاً أو مستنداً كذا في "الذخيرة". (الفتاوى الهندية: ۱/۱۳٦)

کفایت المفتی میں مذکور ہے "کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم" :
سوال کا ماحصل حسب ذیل درج ہے:
پیٹ میں بے چینی سی معلوم ہوتی ہے اور زمین پر نماز پڑھنا بہت دشوار معلوم ہو رہا ہے تو کیا کرسی پر بیٹھ کر سامنے ٹیبل پر سجدہ کر نا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: کرسی پر پاؤں نیچے لٹکا کر بیٹھنا اور ٹیبل پر سر جھکانا جائز نہیں الا اس صورت میں کہ زمین پر بیٹھنا اور زمین پر سجدہ کر نا طاقت سے باہر ہو جائے، زمین پر بیٹھ کر کسی اونچی چیز پر جو زمین سے ایک بالشت سے زیادہ اونچی نہ ہو سجدہ کر لیا جائے تو عذر کی حالت میں جائز ہے ۔ (کفایت المفتی:
۳/٤۲۲
، دار الاشاعت)
احسن الفتاوی میں مذکور ہے "کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا" :
الجواب: بعض لوگ کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کے ب جائے اشارہ سے نماز پڑھتے ہیں اگر زمین پر بیٹھ کر سجدہ کی قدرت ہو تو کر سی پر اشارہ سے نماز نہیں ہو گی، فقط، واللہ تعالی اعلم ۔ (احسن الفتاوی: ٤/
٥۱)

عمدۃ الفقہ میں ہے:
ضروری تنبیہ: آج کل عموماً یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ جہاں ذرا بخار آیا یا خفیف سی تکلیف ہوئی بیٹھ کر نماز شروع کر دی حالانکہ وہی لوگ اسی حالت میں دس دس پندرہ پندرہ منٹ بلکہ زیادہ کھڑے ہو کر اِدھر ادھر کی باتیں کر لیا کر تے ہیں (آج کل ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مساجد میں کرسیوں پر نماز پڑھنے والے حضرات جو اپنی دکانوں میں کئی کئی گھنٹے کھڑے رہتے ہیں) ان کو اس بات کی نہایت احتیاط کرنی چاہیے اور جو فرض و واجب نمازیں قیام وغیرہ پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھی ہوں انھیں لوٹانا فرض و واجب ہے ۔ (عمدۃ الفقہ:
۲/٤۰۲
، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.