غیر معتدل ایام علاقوں میں روزہ کا حکم:
Question
بعض علاقوں میں ایام غیر معمولی طول اختیار کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے روزہ رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے مثلاً دن ۲۲، ۲۳ گھنٹے کا ہو جاتا ہے یا اس سے زائد تو ایسی صورت میں روزہ کا کیا حکم ہے؟
Answer
ایسے علاقوں میں جو حضرات بالکل روزہ کی طاقت نہیں رکھتے اس لیے کہ دن بے حد طویل ہے، وہ یا تو قضاء کر لیں، یعنی ابھی نہ رکھیں پھر جب ایام معتدل ہو جائے اس وقت قضاء کر لیں، یا اقرب البلاد کے روزوں کے مطابق روزہ رکھ لیں، لیکن اگر روزہ پر قدرت ہو جیسے انگلینڈ وغیرہ میں تو روزہ رکھنا ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی فرماتے ہیں:
تتمة: لم أر من تعرض عندنا لحكم صومهم، فيما إذا كان يطلع الفجر عندهم كما تغيب الشمس، أو بعده بزمان لا يقدر فيه الصائم على أكل ما يقيم بنيته، ولا يمكن أن يقال: لوجوب موالاة الصوم عليهم، لأنه يؤدي إلى الهلاك، فإن قلنا: بوجوب الصوم يلزم القول بالتقدير، وهل يقدر ليلهم بأقرب البلاد إليهم، كما قاله الشافعية هنا أيضاً أم يقدر لهم بما يسع الأكل والشرب، أم يجب عليهم القضاء فقط دون الأداء؟ كل محتمل، فليتأمل، ولا يمكن القول هنا بعدم الوجوب أصلاً، كالعشاء عند القائل به فيها لأن علة عدم الوجوب فيها عند القائل به عدم السبب وفي الصوم قد وجد السبب وهو شهود جزء من الشهر وطلوع فجر كل يوم، هذا ما ظهر لي، والله تعالى أعلم. (فتاوى الشامي: ۱/۳٦٦، مطلب في طلوع الشمس من مغربها، سعيد. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۷۵، كوئته).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
اگر اوقات میں غیر معمولی فرق ہو جائے مثلاً ۲۰، ۲۲ گھنٹوں کا دن ہو جائے اور دو چار گھنٹوں کی رات رہ جائے تو بھی قرآن و حدیث کے عمومی احکام کا تقاضا ہے کہ روزہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ہو اور اسی پر فتوی ہے، البتہ چونکہ بسا اوقات اس کی وجہ سے غیر معمولی مشقت پیدا ہو جائے گی اور عمر رسیدہ یا کمزور آدمیوں کے لیے روزہ رکھنا دشوار ہو جائے گا، ان کو یہ خصوصی سہولت دی جا سکتی ہے کہ وہ رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھیں اور آئندہ جب موسم ہلکا اور قابل تحمل ہو جائے ان کے اوقات نسبۃً کم ہو جائیں تو قضاء کر لیں ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۱۷۸، کتب خانہ)۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: بوادر النوادر: ۲۳۹، ادارہ اسلامیات لاہور۔ و احسن الفتاوی: ۲/۱۱۳، کتاب الصلاۃ۔ و جدید مسائل کا شرعی حل: ٤۷۔ ۵۰، ادارہ اسلامیات)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.