۱۵شعبان کے روزہ کا حکم:

6 min readFatwa Vol 3 #226Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۵): نفل روزوں کا بیان

Question

۱۵ شعبان کا روزہ مستحب ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کہاں سے ثابت ہے؟

Answer

۱۵ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے، اور حدیث سے ثابت ہے اگر چہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل میں بلا اعتقادِ سنیت عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔ ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی شرائط کی تفصیلات رسالہ
"الجزء اللطيف في الاستدلال بالحديث الضعيف"
میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔
حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له، ألا مسترزق فأرزقه، ألا مبتلي فأعافيه ألا كذا، ألا كذا حتى يطلع الفجر. (رواه ابن ماجة: ص ۹۹، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان. والبيهقي في شعب الإيمان: ۳/۳۷۸/۳۸۲۲، ما جاء في ليلة النصف من شعبان).

پورے ذخیرۂ احادیث میں صرف ایک حدیث موجود ہے جس سے ۱۵ شعبان کے روزہ کا پتا چلتا ہے، لیکن اس حدیث پر محدثین نے بہت کچھ کلام فرمایا ہے، مستقل رسائل بھی تحریر فرمائے ہیں اس کے باوجود اس کو موضوع نہیں کہا جا سکتا ۔
ملاحظہ فرمائیں محدثِ جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمن الاعظمی فرماتے ہیں:
پندرہویں شعبان کے روزے کے بارے میں جو حدیث ابن ماجہ میں آئی ہے وہ موضوع نہیں ہے کسی ماہر حدیث نے اس کو موضوع نہیں کہا ہے، "تحفۃ الاحوذی" کی عبارت سے اس حدیث کے موضوع ہونے پر استدلال کرنا کرنا جہالت ہے، اس حدیث کے راویوں میں ابو بکر بن ابی سبرہ ضرور ہے اور اس کی نسبت بیشک یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حدیثیں بناتا تھا، لیکن اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیر بحث حدیث اس کی بنائی ہوئی ہے اور موضوع ہے، محض اس بنا پر کہ سند میں ایسا کوئی راوی موجود ہے جو حدیثیں بناتا تھا کسی حدیث کو موضوع کہہ دینا جائز نہیں ہے، اس سے تو بس اتنا لازم آئے گا کہ حدیث سنداً ضعیف ہے ۔ (مجلہ المآثر ص ٦۹ ۔ ۷۰، ۱۹۹۵؁ء) ۔
نیز موضوع کہنے والوں کی سخت تردید فرمائی ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (مجلہ المآثر ص ٦۸ ۔ ۷۴، ۱۹۹۵؁ء) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

المرغوبات من الصيام أنواع أولها صوم المحرم، والثاني صوم رجب، والثالث صوم شعبان

(الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۲).

اسلامی فقہ میں ہے:
شعبان کی ۱۵/تاریخ کو اور شوال کے مہینہ میں چھ روزے رکھنا بھی سنت ہے، شعبان کی پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھنے اور پندرہویں رات کو عبادت کرنے اور قبرستان جا کر مردوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا بھی ذکر حدیث میں ہے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/۴۱۷) ۔
مفتی تقی صاحب تحریر فرماتے ہیں: پندرہویں شعبان کے روزے کے استحباب پر علمائے کرام کی تصریحات؛
علماء حنفیہ: ٭ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
پندرہویں تاریخ شعبان کو روزہ رکھنا مستحب ہے ۔ (زوال السنۃ: ص ۱۰) ۔
٭ حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے بھی اس کو پندرہویں شعبان کے مسنون اعمال میں شمار فرمایا، یعنی اس کی صبح کو روزہ رکھنا مستحب ہے ۔
٭ علامہ قطب الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ شریف کی شرح مظاہر حق: ۲/۳٦٤، پر باب صیام التطوع میں پندرہویں شعبان کا روزہ بھی شمار فرمایا ہے ۔
علمائے مالکیہ:

وندب صوم يوم النصف من شعبان (كذا في شرح الصغير علي أقرب المسالك للشيخ الدردير المالكي. (۱/٦۹۲، باب الصوم).
یعنی شیخ دردیر مالکی رحمه الله نے پندرہویں شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا ہے ۔
علمائے حنابلہ:
٭ شیخ مرداوی حنبلی نے اپنی کتاب
"الانصاف"
میں تحریر فرمایا ہے کہ شیخ ابن جوزی نے "
المستوعب"
میں لکھا ہے کہ شعبان کے روزوں میں پندرہویں شعبان کا روزہ زیادہ مؤکد ہے ۔
٭ نیز ابن رجب حنبلی رحمه الله نے بھی فرمایا پندرہویں شعبان کے روزہ کا حکم خصوصیت سے آیا ہے ۔ (ملخص از رسالہ: شبِ براءت کی حقیقت: ص ۷۴ ۔ ۷۷، از مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ) ۔
٭ نیز ہر مہینہ کے تین دن یعنی ایام بیض کے بارے میں صحیح روایات موجود ہیں ان کی وجہ سے بھی پندرہویں شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا جائے گا ۔
٭ علامہ شرنبلالی رحمه الله نے مراقی الفلاح میں تحریر فرمایا ہے کہ ہر وہ روزہ جو شریعت میں مطلوب ہو اور اس پر ثواب کا وعدہ ہو وہ بھی مستحب ہوتا ہے، اور چونکہ پندرہویں شعبان کے روزہ کے بارے میں روایت موجود ہے لہذا مستحب ہوگا ۔ ملاحظہ فرمائیں مراقی الفلاح میں ہے:

ومنه (المندوبات) كل صوم ثبت طلبه والوعد عليه بالسنة الشريفة. (مراقي الفلاح: ص ۲۳۰).

ماہنامہ دار العلوم دیوبند میں حدیثِ بالا پر تفصیلی کلام کرنے کے بعد اس کے موضوع نہ ہونے کی تین وجوہات بیان فرما کر بطورِ خلاصہ درجِ ذیل عبارت ذکر کی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
خلاصہ یہ ہے کہ پندرہویں شعبان کے روزے کو نہ تو واجب و سنت کہا جا سکتا ہے نہ ہی بدعت کہہ کر بالکل رد کیا جا سکتا ہے ؛ بلکہ اس کو مستحب کہا جائے گا ۔ (ماہنامہ دار العلوم دیوبند، ص ۱۲، شعبان ۱۴۳۴ ؁ ھ مطابق جون ۲۰۱۳ ؁ء)،
مزید ملاحظہ ہو: (ماہنامہ دار العلوم دیوبند، و ما ثبت بالسنۃ ص ۳۵۸ ۔ ۳٦۳، از شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.