مغربی ممالک میں عشاء اور فجر اداء کرنے کا طریقہ:
Question
بعض مغربی ممالک میں مئی سے جولائی تک شفق غروب نہیں ہوتی، وہاں عشاء اور فجر کی نماز کیسے ادا ہو؟ بینوا توجروا۔
Answer
علمائے کرام نے اس کے چار طریقے لکھے ہیں:
(۱) اقرب الایام کا اعتبار کیا جائے یعنی آخری دن جو شفق غروب ہونے کا وقت ہے اس کو عشاء کے وقت کی ابتدا سمجھ لیا جائے۔
(۲) اقرب البلاد کا اعتبار کیا جائے یعنی قریبی جگہ میں جس وقت شفق غروب ہوتی ہے اس کا اعتبار کر لیا جائے۔
(۳) آفتاب غروب ہونے سے لیکر طلوعِ آفتاب تک کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے نصف اول مغرب و عشاء کے لیے مناسب وقفے کے ساتھ ہوگا، مثلاً مغرب کے سوا گھنٹے کے بعد عشاء اور نصف اخیر فجر کے لیے ہوگا، اس حساب سے نصفِ ثانی کی ابتدا سے روزہ شروع ہوگا اور اس میں احتیاط ہے۔
(٤) غروبِ آفتاب سے طلوعِ آفتاب تک کے وقت کو سات حصوں میں تقسیم کر کے چھ حصے رات کے اور ساتواں حصہ فجر کا ہوگا۔ مولوی محمد عثمان صاحب نے تفسیر الایمان سندھی میں بحوالہ الدر المختار اور حضرت تھانوی رحمه الله نے امداد الفتاوی (۲/۹۸) میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ ہر رات کی صبح صادق تا طلوعِ آفتاب پوری رات کا ساتواں حصہ ہوتا ہے۔ تفصیلات کے لیے حضرت مولانا یعقوب قاسمی صاحب کی کتاب "صبح صادق و شفق" مطالعہ فرمائیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.