حج کی فرضیت کے بعد بیوی بچوں کا منع کرنا :

2 min readFatwa Vol 3 #242Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

ایک شخص حج کے لیے جانا چاہتا ہے اور بیوی بچے مکان میں رہنے سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کیا کرنا چاہیے اور حج فرض اور نفل میں کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟

Answer

جس شخص پر حج فرض ہو اس کو اسی سال حج کرنا ضروری ہے تاخیر کرنا صحیح نہیں ہے، اور بیوی بچوں کا ان کار کرنا صحیح نہیں، اس کی طرف خیال نہ کرے جب کہ شرائط موجود ہوں اور موانع نہ ہوں، اور مرد کے خیال میں عورت، بچوں کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو، ہاں نفل حج ہو تو اس میں مصلحت دیکھی جائے گی یعنی گھر والوں کے لیے اطمینان کے اسباب مہیا کر دے پھر حج کرے، مصلحت کا خیال رکھ کر خود فیصلہ کر لے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وروينا عن النبي ﷺ أنه قال: من ملك زاداً وراحلة تبلغه إلى بيت الله الحرام، فلم يحج فلا عليه أن يموت يهودياً أو نصرانياً، ألحق الوعيد عمن أخر الحج عن أول أوقات الإمكان. (بدائع الصنائع: ۲/۱۱۹، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وكذا إن كرهت خروجه زوجته وأولاده أو من سواهم ممن تلزمه نفقته وهو لا يخاف الضيعة عليهم فلا بأس بأن يخرج. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۲۱. وكذا في الفتاوى التاتارخانية: ۲/۵۷۷).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
فرضیتِ حج کے بعد اسی سال حج کرنے کے لیے جانا ضروری ہے جب کہ کوئی شرعی عذر نہ ہو بلا وجہ سال دو سال تاخیر کرنے پر فاسق و گنہگار ہوگا اور اگر حج ادا نہ کر سکا تو سخت وعید اور سزا کا مستحق ہوگا ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۲۱۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.