ایام حج تک رہنے کا ویزا نہ ہونے پر فرضیت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #254Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ عمرہ کے لیے رمضان میں گیا اور شوال تک رہا شوال کا چاند بھی طلوع ہو گیا اس حال میں کہ وہ سعودی میں تھا لیکن قانوناً اس کے لیے رہنا درست نہیں ہے کیا اس پر حج فرض ہوگا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر ویزا بڑھانا ممکن ہے اور رہنے کی استطاعت بھی ہے یا اپنے ملک جا کر دوبارہ آنے کی استطاعت بھی ہے تو حج فرض ہوگا، ورنہ نہیں، البتہ بعض علماء کا قول ہے کہ اگر استطاعت ہو تو مکہ مکرمہ سے حج بدل کرا دینا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
بعض اوقات لوگ شوال، ذوالقعدہ میں مکہ مکرمہ آ جاتے ہیں حج ان پر فرض ہوتا ہے، لیکن ان کا ویزہ زمانہ حج کا نہیں ہوتا ہے اور قانونی اعتبار سے وہ حج تک نہیں رک سکتے، ایسی صورت میں اگر ان پر حج فرض باقی ہو تب تو ان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ کس طرح وہ حج کر لیں ۔
لیکن اگر قانونی مجبوری کے تحت حج تک اس کا قیام ممکن نہ ہو تو پھر حج اس پر فرض نہیں ہوگا، اس لیے کہ استطاعتِ سبیل جس کو قرآن نے حج فرض ہونے کے لیے شرط قرار دیا ہے اس کے حق میں مفقود ہے، نیز بعض حضرات کی غلط فہمی کے پیشِ نظر عرض ہے کہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو لوگ حج ادا کر چکے ہیں ان پر حج کے زمانہ میں عمرہ کرنے کی وجہ سے دوبارہ حج فرض نہیں ہو جاتا ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۵٦، نعیمیہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اگر شوال وہیں شروع ہو گیا اور اس کے پاس حج کے مصارف بھی ہوں تو حج فرض ہو جائے گا، اگر حکومت کی طرف سے حج تک ٹھہرنے کی اجازت نہ ہو تو فرضیتِ حج میں اختلاف ہے، راجح یہ ہے کہ اس پر حج بدل کرانا فرض ہے مکہ مکرمہ ہی سے حج کرا دے، بعد میں خود حج کی استطاعت ہو گئی تو دوبارہ کرے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۵۱۹) ۔
مزید ملاحظہ ہو: آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.