حج کے سفر میں جانے کی وجہ سے ایامِ غیابت کی تنخواہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #252Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

ایک مدرس فرض حج کے لیے جانا چاہتا ہے کیا وہ ان ایام کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں؟

Answer

اگر مدرس کے ساتھ معاہدہ یا مدرسہ کا قانون ہے تو اس پر عمل کیا جائے ورنہ دیگر مدارس کے قانون پر عمل کیا جائے، ہمارے ہاں فرض حج کے لیے تنخواہ کے ساتھ رخصت دینے کا معمول ہے ۔
فتاوی الشامی میں ہے:

أما لو شرط شرطاً تبع كحضور الدرس أياماً معلومة في كل جمعة فلا يستحق المعلوم إلا من باشر خصوصاً إذا قال: من غاب عن الدرس قطع معلومة فيجب اتباعه. (فتاوى الشامية: ٤/٤۱۹، سعيد).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
البتہ معلوم و عرف کے موافق ایام تعطیل و رخصت کی تنخواہ ان کو دینا درست ہے اور اس بارہ میں امام و مؤذن و دیگر ملازمین وقف مساوی ہیں ۔ (عزیز الفتاوی: جلد پنجم ششم ۲۵۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.