ذی قعدہ میں عمرہ کیا تو قصر کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #258Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

ایک شخص نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اب یہ سوچا کہ قصر کر لوں تاکہ حج میں حلق ہو سکے تو اس کے لیے قصر بہتر ہے یا حلق؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں صراحۃً قصر کے افضل ہونے کی عبارت کسی فقہ کی کتاب میں نہیں ملی، لیکن فقہاء اور شراح حدیث نے متمتع کے لیے قصر کا ذکر کیا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ چند دنوں کے بعد حج کا احرام باندھنا ہے پھر حلق کرنا ہے اس لیے متمتع قصر کر لے اس سے معلوم ہوا کہ شخص مذکور بھی قصر کر لے تاکہ حج کے لیے بال رہ جائیں اور حلق ہو سکے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه قال: أهل النبي ﷺ هو وأصحابه بالحج وليس مع أحد منهم هدي غير النبي ﷺ وطلحة رضي الله تعالى عنه وقدم علي رضي الله تعالى عنه من اليمن ومعه هدي، فقال: أهللت بما أهل النبي ﷺ، فأمر النبي ﷺ أصحابه أن يجعلوها عمرة ويطوفوا ثم يقصروا أو يحلقوا إلا من كان معه الهدي الخ

. (رواه البخاري: ۱/۲۲٤).

عمدۃ القاری میں ہے:

"قصروا" أمرهم بالتقصير لأنهم يهلون بعد قليل بالحج وأخر الحلق لأن بين دخولهم وبين يوم التروية أربعة أيام فقط. (عمدة القاري: ۷/۱۱۵، ملتان).

مرقات میں ہے:

"وقصروا" قال الطيبي رحمه الله وإنما قصروا مع أن الحلق أفضل لأن يبقي لهم بقية من الشعر حتى يحلق في الحج، وليكون شعرهم في ميزان حجتهم أيضاً سبباً لزيادة أجرهم وليكونوا داخلين في المقصرين والمحلقين جامعين بين العمل بالرخصة والعزيمة. (مرقاة: ۵/۲۹۷، ملتان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.