عمرہ کرنے کے بعد قصر نہ کرنے پر عمرہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #305Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (٤): عمرہ کا بیان

Question

ایک عورت نے عمرہ کے بعد اپنے بالوں کو نہیں کاٹا پھر دوسرے دن یاد آیا تو قصر کیا تو عمرہ صحیح ہے یا نہیں؟ کوئی دم واجب ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں عورت کا عمرہ صحیح ہے ہاں جب تک قصر نہیں کیا تھا احرام جاری تھا پھر قصر کے بعد احرام اتر گیا، لیکن قصر سے پہلے اگر کوئی خلافِ احرام کام نہیں کیا ہے تو کوئی جزاء لازم نہیں ہے اور اگر خلافِ احرام کچھ کام کیا ہے تو اس کی تفصیل درج کر کے سوال کیا جائے اس کے موافق جواب دیا جائے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع:

أن الحلق أو التقصير واجب لما ذكرنا فلا يقع التحلل إلا بأحدهما ولم يوجد فكان إحرامه باقياً. (بدائع الصنائع: ۲/۱٤۰، سعيد).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي حق المعتمر لا يختص بالزمان وبالمكان بلا خلاف، وفي الهداية: والتقصير والحلق في العمرة غير مؤقت بالزمان بالإجماع، فإن لم يقصر حتى رجع وقصر فلا شيء عليه في قولهم جميعاً. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/۵٤٤، في الحلق والتقصير، إدارة القرآن. وكذا في شرح اللباب: ۲۵٤، فصل في زمان الحلق ومكانه وشرائط جوازه، بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.