بالوں میں تقصیر کرانے کا حکم:
Question
کیا بالوں کو ایک خاص مقدار میں کٹوا سکتے ہیں یعنی بالکل حلق مراد نہیں بلکہ تقصیر یعنی کم کرنا اس طور پر کہ تمام سر کے بال بالکل برابر ہو جائیں کہیں بڑے چھوٹے نہ رہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
آنحضرت ﷺ کا ہمیشہ کا معمول بالوں سے متعلق رکھنے کا تھا، حلق کرنا فقط حج عمرہ کے موقع پر ثابت ہے، بنا بریں بال رکھنا مستحب اور اولی ہے، ہاں پورے سر کا حلق کرانا بھی جائز ہے جیسا کہ بعض صحابہ کرام کا معمول تھا، اور دونوں کے درمیان مثلاً کم کروانا جب کہ پورے سر کے بال بالکل برابر ہوں چھوٹے بڑے نہ ہوں تو یہ بھی جائز اور مباح ہے، البتہ چھوٹے بڑے رکھنا جیسا کہ آج کل فیشن ہے یہ ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
پس جس حالت میں بالکل منڈا دینا جائز ہے تو قصر کرانے میں کیا حرج ہے،
للإجماع على تساوي حكم القصر والحلق لشعر الرأس في مثل هذا الحكم وإلي التساوي أشير بقوله تعالي: ﴿محلقين رؤوسكم ومقصرين﴾
واللہ تعالی اعلم ۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۲۲٤
) ۔
حضرت رحمه الله دوسری جگہ فرماتے ہیں:
جواز تقصیر کا حج کے ساتھ مخصوص ہونا محتاجِ دلیل ہے، اور شاید کسی کو شبہ ہو کہ اس کی نسبت
يأخذ من كل شعرة قدر الأنملة
لکھا ہے، تو سمجھنا چاہیے کہ یہ مقدار ادنیٰ کی ہے، مقصود نفی زائد کی نہیں ہے، چنانچہ رد المحتار میں بدائع سے نقل کیا ہے:
قالوا: يجب أن يزيد في التقصير على قدر الأنملة
۔
الخ
، اور اسی طرح ربع کی تخصیص بیانِ ادنیٰ کے لیے ہے، چنانچہ در مختار میں تصریح ہے:
وتقصير الكل مندوب
پس وہ شبہ رفع ہو گیا، اور فارق منتفی ہے لہذا جواز عام ہے ۔ (امداد الفتاویٰ:
٤
/
۲۲۵
، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
حضرت ابن عباس
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی الله عنه نے کہا کہ میں نے نبی پاک ﷺ کے بال کو مروہ کے پاس قینچی سے تراشا ہے۔ (مسلم، ص
٤۰۸
، طبرانی)۔
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ قینچی کا استعمال اور اس سے بال تراشنا کم کرنا خلاف سنت نہیں ہے، مگر خیال رہے کہ کسی جگہ کم اور کسی جگہ زیادہ کاٹنا، جیسا کہ انگریزی بالوں میں ہوتا ہے یہ ناجائز ہے، ہر طرف کے بال یکساں کٹنے چاہیے۔ (شمائل کبری، جلدِ دوم، ص
۳۲۸
، ط: زمزم)۔
بالوں کے بارے میں شرعی حدود:
٭ بال رکھنا افضل اور مستحب ہے، اتباعِ سنت کی نیت سے باعثِ ثواب ہے۔
پھر اس کے تین طریقے ہیں:
(۱) کانوں کی لو تک اس کو وفرہ کہتے ہے۔
(۲) کانوں کی لو اور کندھوں کے درمیان تک اس کو لمہ کہتے ہیں۔
(۳) کندھوں تک اس کو جمہ کہتے ہیں۔ ان میں سب سے افضل پہلی صورت ہے پھر دوسری پھر تیسری، اور یہ تینوں احادیث سے ثابت ہیں۔ تفصیل ما قبل میں مذکور ہوئی۔
٭ پورے سر کا حلق جائز ہے، علامہ طیبی رحمه الله نے سنت کہا ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دائمی عمل کی وجہ سے، اور امام طحاوی رحمه الله بھی اسی طرف گئے ہیں، لیکن کچھ منڈانا اور کچھ ترک کرنا ناجائز ہے۔
٭ بالوں کی وضع میں کافروں اور فاسقوں کی نقالی اور مشابہت اختیار کرنا ناجائز ہے۔
٭ مردوں کو عورتوں کی اور عورتوں کو مردوں کی وضع قطع اور مشابہت اختیار کرنا ناجائز ہے۔
٭ بال رکھنے کی صورت میں ان کی صفائی، ستھرائی، تیل کی مالش، کنگھا، وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔
٭ بالوں کے سنوارنے میں حد سے زیادہ تکلف و تصنع ممنوع ہے۔
٭ پورے سر کے بالوں کو برابر کاٹنا جائز اور درست ہے، کسی جگہ بڑے چھوٹے کرنا ناجائز ہے۔
٭ بال رکھنے کی صورت میں جوڑا بنانا درست نہیں ہے، خصوصاً نماز میں کراہت شدید ہے۔
٭ مردوں کو کندھوں سے نیچے بال رکھنا ممنوع ہے، حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.