سر کے بالوں کا حلق کرنے کا حکم:
Question
عام حالات میں سر کے بالوں کا رکھنا بہتر ہے یا حلق کرنا، اکابرین کا طریقہ حلق کا رہا ہے، حدیث وفقہ میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر بالوں کا رکھنا ہو تو کیسے رکھنا چاہیے؟ رسول اللہ ﷺ نے بعض اہل باطل کا شعار حلق بتلایا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
کتبِ احادیث کی ورق گردانی سے پتا چلتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کا عام معمول سر کے موئے مبارک رکھنے کا تھا، ہاں مونڈنا بھی ثابت ہے لیکن فقط حج، عمرہ کے وقت اس کے علاوہ ثابت نہیں ہے، پھر بال رکھنے سے متعلق تین قسم کی کیفیات دستیاب ہوتی ہیں: (۱) وفرہ: ۔ نصف کانوں تک ۔ (۲) لمہ: ۔ وہ بال ہیں جو کان کی لو سے نیچے ہوں ۔ (۳) جمہ: ۔ وہ ہے جو دونوں مونڈھوں تک ہوں ۔
آنحضرت ﷺ سے صرف چار مرتبہ اپنے سر مبارک کا حلق کرانا ثابت ہے: (۱) حدیبیہ میں ۔ (۲) عمرۃ القضاء میں ۔ (۳) عمرۂ جعرانہ میں ۔ (٤) حجۃ الوداع میں ۔ ان مواقع کے علاوہ ثابت نہیں ہے ۔ (شمائلِ کبری، جلدِ دوم، ص
۳۲٦
) ۔
یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بال رکھنے سے متعلق آپ ﷺ کا مبارک طریقہ اور سنت، سنن عادیہ کے قبیل سے ہے یعنی مسلمان کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص اس پر عمل نہ کرے تو خلافِ سنت کرنے والا یا مکروہ کا ارتکاب کرنے والا نہیں کہلائے گا ۔ ہاں اس پر سنت کی نیت سے عمل پیرا ہونے پر اجر و ثواب کا مستحق ہوگا ۔ دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
روي البخاري بسنده عن أبي قتادة رضي الله عنه قال: سألت أنس بن مالك رضي الله عنه عن شعر رسول الله ﷺ فقال: كان شعر رسول الله ﷺ رجلاً ليس بالسبط ولا الجعد بين أذنيه وعاتقه. (رقم: ۵۹۰۵).
وفي رواية له عنه كان يضرب شعر النبي ﷺ منكبيه. (۵۹۰٤).
وروي مسلم بسنده عن أنس رضي الله عنه كان شعر رسول الله ﷺ إلى أنصاف أذنيه. (رقم: ۲۳۳۸، باب صفة شعر رسول الله ﷺ).
وفي رواية لا بي داود عنه قال: كان شعر رسول الله ﷺ إلى شحمة أذنيه. (٤۱۸۷).
وعن عائشة رضي الله تعالى عنه قالت: كان شعر رسول الله ﷺ فوق الوفرة ودون الجمة. (رواه أبو داود: ٤۱۸۹).
وفي رواية لا حمد عنه، قال: كان شعر رسول الله ﷺ لا يجاوز أذنيه. (أخرجه أحمد، رقم: ۱۲٦۰۱).
الجمة: الشعر النازل على المنكبين.
الوفرة: شعر الرأس إذا بلغ شحمة الأذن.
واللمة: يجاوز شحمة الأذن، فإذا بلغ المنكبين فهو جمة. (عمدة القاري: ۱۵/۹۹، دار الحديث، ملتان، وإكمال المعلم: ۷/۳۰٤).
حلق کرانا فی نفسہٖ جائز ہے اس میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ سیوطی رحمه الله فرماتے ہیں:
وقد ثبت في سنن أبي داود بإسناد على شرط البخاري ومسلم أن رسول الله ﷺ رأي صبياً قد حلق بعض رأسه فقال: احلقوه كله أو اتركوه كله وهذا صريح في إباحة حلق الرأس لا يحتمل تأويلاً، قال أصحابنا: حلق الرأس جائز بكل حال لكن إن شق عليه تعهده بالدهن والتسريح استحب حلقه وإن لم يشق استحب تركه. (شرح السيوطي لسنن النسائي: ۷/۱۲۱، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب).
(وكذا قاله الامام النووي في شرح صحيح مسلم: ۷/۱٦۷، ط: دار إحياء التراث).
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مداومت کے ساتھ حلق کرانا ثابت ہے ۔ ملاحظہ ہو :
عن زاذان عن على رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: من ترك موضع شعرة من جنابة لم يغسلها فعل بها كذا وكذا من النار، قال على رضي الله عنه: فمن ثم عاديت رأسي، فمن ثم عاديت رأسي، فمن ثم عاديت رأسي، وكان يجز شعره. (رواه أبو داود، رقم: ۲٤۹).
قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده ضعيف مرفوعاً؛ عطاء بن السائب اختلط بأخرة وحماد بن سلمة سمع منه قبل الاختلاط وبعده، والذي يغلب على الظن أنه مما سمعه منه بعد الاختلاط، ويؤيده أن شعبة صرح بأنه سمع من عطاء حديثين بأخرة، وذكر هذا الحديث منهما
وقد روي هذا الحديث عن عطاء حماد بن زيد وقد سمع منه قبل الاختلاط فوقفه على علي رضي الله عنه، ذكر ذلك الدارقطني في العلل. انظر: (تعليقات الشيخ شعيب على سنن أبي داود: ۱/۱۸۱/۲٤۹).
عون المعبود
میں ہے:
واستدل بحديث على رضي الله عنه هذا جواز حلق الرأس ولو دواماً ويدل على جواز حلق الرأس حديث ابن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ رأي صبياً
الخ. (عون المعبود: ۱/۲۹۱، باب الوضوء بعد الغسل).
قال الملا على القاري في المرقاة: قال الطيبي: وفيه: أن المداومة على حلق الرأس سنة لأنه قرره ولأن علياً رضي الله تعالى عنه من الخلفاء الراشدين الذين أمرنا بمتابعة سنتهم. (انتهى كلامه). ولا يخفي أن فعله كرم الله وجهه إذا كان مخالفاً لسنته عليه الصلاة والسلام وبقية الخلفاء من عدم الحلق إلا بعد فراغ النسك يكون رخصة لا سنة. والله تعالى أعلم، ثم رأيت ابن حجر رحمه الله نظر في كلام الطيبي رحمه الله وذكر نظير كلامي وأطال الكلام فيه. (مرقاة المفاتيح: ۲/ ۳۸، باب الغسل، إمداديه، ملتان). (وكذا في بذل المجهود: ۲/۲۷۵، دار البشائر الإسلامية).
فقہاء کی عبارات ملاحظہ ہوں:
قال في الفتاوى الهندية: ويستحب حلق الرأس في كل جمعة، كذا في الغرائب. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۷).
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
وأما حلق الرأس ففي التاتارخانية عن الطحاوي رحمه الله: أنه سن عند أئمتنا الثلاثة، وفي روضة الزندويستي: السنة في شعر الرأس إما الفرق، وإما الحلق، يعني حلق الكل، إن أراد التنظيف، أو ترك الكل ليدهنه ويرجله ويفرقه لما في أبي داود والنسائي عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ رأي صبياً حلق بعض رأسه وترك بعضه
وفي الغرائب: يستحب حلق الشعر في كل جمعة. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵۲۵، قديمي).
قال في المغني لابن قدامة: واختلفت الرواية عن أحمد في حلق الرأس فعنه أنه مكروه لما روي عن النبي ﷺ أنه قال في الخوارج سيماهم التحليق، فجعله علامة لهم وقال عمر لصبيغ لو وجدتك محلوقاً لضربت الذي فيه عيناك بالسيف وروي عن النبي ﷺ أنه قال: لا توضع النواصي إلا في حج أو عمرة، رواه الدار قطني في الافراد وروي أبو موسي عن النبي ﷺ: ليس منا من حلق رواه أحمد وقال ابن عباس رضي الله عنه: الذي يحلق رأسه في المصر شيطان قال أحمد كانوا يكرهون ذلك وروي عنه لا يكره ذلك لكن تركه أولى وأفضل
قال ابن عبد البر: وقد أجمع العلماء على إباحة الحلق وكفي بهذا حجة. (المغني: ۱/۷۳، فصل: حكم حلق الشعر، بيروت).
الموسوعة الفقهية الكويتية
میں ہے:
اختلف الفقهاء في حلق الرأس: فذهب الحنفية إلى أن السنة في شعر الرأس بالنسبة للرجل إما الفرق أو الحلق، وذكر الطحاوي رحمه الله أن الحلق سنة. وذهب المالكية كما جاء في الفواكه الدواني إلى أن حلق شعر الرأس بدعة غير محرمة
ويري الشافعية أنه لا بأس بحلق جميع الرأس لمن أراد التنظيف. واختلفت الرواية عن أحمد في حلق الراس: فعنه أنه مكروه
وروي عنه أنه لا يكره ذلك، لكن تركه أولى. (الموسوعة الفقهية: ۱۸/۹۵، أحكام الحلق).
حافظ ابن تیمیہ رحمه الله نے حلق کے بارے میں بہترین تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
حلق الرأس على أربعة أنواع: أحدها: حلقه في الحج والعمرة فهذا مما أمر الله به ورسوله وهو مشروع ثابت بالكتاب والسنة وإجماع الأمة
والنوع الثاني: حلق الرأس للحاجة مثل أن يحلقه للتداوي فهذا أيضاً جائز بالكتاب والسنة والإجماع
النوع الثالث: حلقه على وجه التعبد والتدين والزهد، من غير حج ولا عمرة مثل ما يأمر بعض الناس التائب إذا تاب بحلق رأسه
فهذا بدعة لم يأمر الله بها ولا رسوله؛ وليست واجبة ولا مستحبة عند أحد من أئمة الدين
والنوع الرابع: أن يحلق رأسه في غير النسك لغير حاجة ولا على وجه التقرب والتدين، فهذا فيه قولان للعلماء هما روايتان عن أحمد، أحدهما: أنه مكروه وهو مذهب مالك وغيره، والثاني: أنه مباح، وهو المعروف عند أصحاب أبي حنيفة رحمه الله والشافعي
الخ. (مجموع الفتاوى: ۲۱/۱۱٦. ۱۱۹، دار الوفاء).
مذکورہ بالا عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ سر کے حلق کی چار صورتیں ہیں:
(۱) حج، عمرہ میں جو قرآن حدیث سے ثابت ہے ۔
(۲) کسی مرض کی وجہ سے علاجاً، یہ بھی جائز ہے ۔
(۳) حج عمرہ کے علاوہ کسی اور مقام پر مثلاً گناہ سے توبہ کے وقت عبادت سمجھ کر حلق کرنا یہ بدعت ہے ۔ جیسا کہ بعض فرقے عبادت سمجھتے ہیں ۔
(٤) عام حالات میں حلق کرنا، نہ قربت کی نیت ہو اور نہ ضرورت ہو تو علماء کے دو قول ہیں:
(الف) مکروہ اور یہ امام مالک کا مذہب ہے ۔
(ب) جائز اور مباح اور یہ اصحابِ ابی حنیفہ رحمه الله اور امام شافعی رحمه الله کا مذہب ہے ۔
اکابر کے فتاوی ملاحظہ کیجیے:
امداد الفتاوی میں ہے:
بال رکھنا حضور ﷺ کا بطورِ عادت کے ہے، نہ بطورِ عبادت کے، اس لیے اولی ہونے میں تو شبہ نہیں، مگر اس کے خلاف کو خلافِ سنت نہ کہیں گے، اگر چہ حضرت علی رضی الله عنه کی حدیث بھی نہ ہوتی چہ جائیکہ وہ حدیث بھی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا انکار نہ فرمانا یقینی دلیل ہے بال نہ رکھنے کی، جواز بلا کراہت کے اور خلاف سنت نہ ہونے کے، پس جس حالت میں بالکل منڈا دینا جائز ہے تو قصر کرانے میں کیا حرج ہے ۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۲۲٤
) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۳۲
۔
۳٤۳
، و فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
٤۳۱
۔
٤۳۳
، مع التعلیقات، جامعہ فاروقیہ) ۔
چنانچہ مذکورہ بالا عبارات کی روشنی میں اکابر کا عمل حلق کرانا درجِ ذیل وجوہات کی بنا پر رہا ہے:
(۱) حلق کرانا خلافِ سنت نہیں ۔ (۲) حضرت علی رضی الله عنه کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ (۳) نبی کریم ﷺ کی تقریر سے مزید تائید ہوتی ہے ۔ (٤) دینی امور میں مشغولیت کی بنا پر بال کی صفائی، ستھرائی کا موقع نہ ہونے کی وجہ سے حلق کرانے میں آسانی ہے ۔
البتہ نبی پاک ﷺ کی اقتدا میں بال رکھنا افضل اور اولی ہے اور بال رکھنے کے مذکورہ بالا تین طریقے مستحب ہیں: وفرہ، لمہ، اور جمہ ۔
اہل باطل کی علامت کے بارے میں محدثین نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں ۔ چند حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
٭ اہل باطل حلق کو عبادت اور دین کی علامت سمجھ کر کرتے ہیں ۔
٭ حلق کو واجب سمجھتے ہیں ۔
٭ امام نووی رحمه الله نے فرمایا کہ حلق کو ان کی علامت قرار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حلق حرام ہو ۔ (شرح صحیح مسلم) ۔
٭ ملا علی قاری رحمه الله نے فرمایا کہ وہ حلق میں مبالغہ کرتے ہیں یہ ان کی علامت ہے ۔ (مرقات:
۷
/
۱۱۳
) ۔
٭ علامہ سیوطی رحمه الله نے لکھا ہے کہ انہوں نے دنیا کی زینت کو چھوڑ دیا اس پر لوگ ان کی علامت حلق بنا دیں گے ۔ (شرح السیوطی علی النسائی) ۔
٭ عبد المحسن عباد نے ابو داود شریف کی شرح میں لکھا ہے کہ ان کی مشابہت کرتے ہوے حلق کرایا جائے تو مذموم ہے ورنہ نہیں ۔ (شرح ابی داود:
۲۳
/
۲٦٤
) ۔
٭ بعض حضرات کہتے ہیں کہ خوارج کا نشان حلق اللحیہ اور مؤخر الراس تھا ۔ امام سیوطی رحمه الله نے ایک حدیث نقل فرمائی ہے:
نهي رسول الله ﷺ عن حلق القفا إلا عند الحجامة
۔ تعلیق میں ہے:
للطبراني الكبير عن عمر حديث ضعيف، الجامع الصغير، رقم:
٦۹۷، ایک روایت میں خوارج کی نشانی کے بارے میں
يحلقون أقفيتهم
، آیا ہے یعنی گدی کے بالوں کو منڈواتے ہیں اس کی تفصیل شیخ غماری نے الاختراعات میں لکھی ہے ۔ نیز دیکھیے: (مجمع الزوائد:
٦
/
۲۱۲
، دار الفکر) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.