بوقتِ عذر سر کے کچھ بالوں کا حلق کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #121Urdu
Vol. 7باب (۵): ما يتعلق بأحکام الشعور والختان والخضاب و تقلیم الأظفار

Question

اگر کسی نے حجامت کی وجہ سے سر کے کچھ بال صاف کیے، تو یہ شخص حلق بعض الراس کے گناہ میں مبتلا ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ عذر کی وجہ سے کچھ بال صاف کرنے سے گناہ نہیں ہوگا، ہاں اولی اور بہتر یہ ہے کہ تمام سر کا حلق کرالے تاکہ بد نما صورت بنانے سے بچ جائے ۔
حدیث شریف میں بعض کے حلق کی ممانعت وارد ہوئی ہے جب کہ بطورِ فیشن ہو ۔ ملاحظہ ہو :

روي البخاري بسنده عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ نهى عن القزع
۔
(۲/۸۷۷، رقم: ۵۹۲۱، باب القزع، كتاب اللباس)
۔

وفي رواية لمسلم عنه قال: قلت لنافع: وما القزع قال يحلق بعض رأس الصبي ويترك بعض. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۲۰، باب كراهة القزع).

عمدۃ القاری میں علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

وقال النووي رحمه الله في شرح مسلم: أجمع العلماء على كراهة القزع إذا كان في مواضع متفرقة إلا أن يكون لمداواة ونحوها وهي كراهة تنزيه. (عمدة القاري: ۱۵/۱۰۷، باب القزع).
(وكذا في شرح مسلم، وفتح الباري: ۱۰/۳٦۵، ومرقاة المفاتيح: باب الترجل).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعاً مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب وعن أبي حنيفة رحمه الله يكره أن يحلق قفاه إلا عند الحجامة كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۷).

حجامہ میں مقصود حلق نہیں ہے بلکہ تابع ہے اور بطورِ فیشن حلق مقصود ہے ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

ولو حلق موضع المحاجم فعليه دم في قول أبي حنيفة رحمه الله وقال أبو يوسف ومحمد فيه صدقة، وجه قولهما أن موضع الحجامة غير مقصود بالحلق بل هو تابع فلا يتعلق بحلقه دم

لأنه إذا لم يكن مقصوداً بالحلق لا تتكامل الجناية بحلقه. (بدائع الصنائع: ۲/۱۹۳، سعيد).

البتہ آج کل غیر مسلم قوموں کی تقلید میں مسلمان نوجوان اور بچے اس فیشن میں مبتلا ہیں، اور اس فعل میں اوباش قسم کے لوگوں کے ساتھ مشابہت بھی پائی جاتی ہے، بنا بریں یہ طریقہ مکروہ تحریمی ہے ۔ اس سے بچنا چاہیے ۔
چنانچہ حضرت گنگوہی رحمه الله فتاوی رشیدیہ میں فرماتے ہیں:
بعض سر کے بال لینے اور بعض چھوڑنے مکروہ ہیں:
تحريماً لقوله عليه السلام نهى عن القزعة. الحديث. (
فتاوی رشیدیہ، ص
٦۳۰
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.