زائد بالو ں کو کریم (cream) کے ذریعہ صاف کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #115Urdu
Vol. 7باب (۵): ما يتعلق بأحکام الشعور والختان والخضاب و تقلیم الأظفار

Question

اگر کوئی عور ت یا مرد اپنے جسم کے زائد بال مثلاً سینہ، ہاتھ اور پیر کے بالوں کو کریم (cream) وغیرہ کے ذریعہ صاف کر لیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ کریم، پاؤڈر وغیرہ سے بالوں کی صفائی جائز اور درست ہے، حدیث شریف میں آتا ہے آپ ﷺ نے نورہ استعمال فرمایا تھا ۔ نیز فقہاء نے بھی اس کی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ كان إذا أطلي بدأ بعورته فطلاها بالنورة، وسائر جسده أهله. (رواه ابن ماجه، رقم: ۳۷۵۱) وفي الزوائد: هذا حديث رجاله ثقات، وهو منقطع، وحبيب بن أبي ثابت لم يسمع من أم سلمة رضي الله عنه قاله أبو زرعة.

علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما النساء فلا يستعملن إلا النورة أو غيرها مما يزيل الشعر. (عمدة القاري: ۲۰/۲۲۲، دار إحياء التراث العربي، بيروت).

فتاوی ہندیہ میں ہے:
و لو عالج بالنورة في العانة يجوز كذا في الغرائب. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸). (وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤۰٦، سعيد).
حاشية الطحطاوي
میں ہے:

وأصل السنة يتأدى بكل مزيل لحصول المقصود وهو النظافة وإنما جاء بالحديث بلفظ الحلق لأنه الأغلب. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵۲۷، باب الجمعة، ط: قديمي).

البحر الرائق میں ہے:

والإزالة لا تختص بالموسى بل بأي آلة كانت أو بالنورة. (البحر الرائق: ۲/۳۷۲، دار المعرفة).

ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:

إن إزالته قد تكون بالنورة وقد ثبت أنه عليه الصلاة والسلام استعمل النورة على ما ذكره السيوطي رحمه الله في رسالته. (مرقاة المفاتيح: ۲/۳۰۲، باب السواك).

بہشتی زیور میں ہے:
ہڑتال وغیرہ کوئی اور دوا لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے ۔ (بہشتی گوہر، حصہ
۱۱
، ص
۹٦۸
، المکتبۃ المدنیہ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
آج کل بعض کریم اور صابن خاص اس مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں کہ ان کے ذریعہ جسم کے فاضل اور غیر ضروری بال صاف کر دیے جائیں، زیر ناف وغیرہ کے بالوں کے لیے ان کے استعمال میں کچھ مضائقہ نہیں ۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۱۲
) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
مردوں کے لیے استرہ وغیرہ سے صاف کرنا اور عورتوں کے لیے اکھاڑنا مستحب ہے پاؤڈر اور کریم کا استعمال بھی جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۷۸
) ۔
فتاوی بینات میں ہے:
البتہ ان زائد بالوں کو نوچ کر نکالنا مناسب نہیں، کیوں کہ اس میں بلا وجہ اپنے جسم کو اذیت دینا ہے، کسی پاؤڈر وغیرہ کے ذریعہ صاف کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے، بحوالہ شامی ۔ (فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص
٤۰۷
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.