جسم کی مختلف جگہوں کے بال صاف کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 7 #112Urdu
Vol. 7باب (۵): ما يتعلق بأحکام الشعور والختان والخضاب و تقلیم الأظفار

Question

سرین کے بالوں کو صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح سینہ، پیٹ، پنڈلی اور رانوں کے بال صاف کرنا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

جسم کے زائد بال مثلاً زیر ناف اور بغل وغیرہ کا دور کرنا ہفتہ میں ایک مرتبہ مستحب ہے، اور چالیس دن تک ترک کرنا مکروہ ہے، اس کے علاوہ مثلاً: سینہ، پیٹ، پیٹھ اور رانوں کے بال صاف کرنے کو فقہاء نے خلاف ادب لکھا ہے یعنی ضرورت ہو تو صاف کر سکتے ہیں ورنہ بلا ضرورت اچھا نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه قال: وقت لنا في قص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط وحلق العانة أن لانترك أكثر من أربعين ليلة. (رواه مسلم، رقم: ۲۵۸).
قال النووي رحمه الله: معناه لانترك تركاً نتجاوز به أربعين لا أنه وقت لهم الترك أربعين. (شرح مسلم: ۱/۱۲۸).
عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ كان إذا أطلي بدأ بعورته فطلاها بالنورة، وسائر جسده أهله. (رواه ابن ماجه، رقم: ۳۷۵۱) وفي الزوائد: هذا حديث رجاله ثقات، وهو منقطع، وحبيب بن أبي ثابت لم يسمع من أم سلمة رضي الله عنه قاله أبو زرعة.
قال في فيض القدير: وتوقف المؤلف في كونها سنة قال: لاحتياجه إلى ثبوت الأمر بها كحلق العانة ونتف الإبط وفعله وإن كان دليلاً على السنة فقد يقال: هذا من الأمور العادية التي لا يدل فعله لها على سنة وقد يقال: فعله بياناً للجواز ككل مباح

الخ. (فيض القدير: ۵/۱۳٤، ط: بيروت).
البحر الرائق
میں ہے:

بخلاف شعر الصدر والساق لأنه لا يتعلق به الجمال. (۸/۳۷۷، دار المعرفة).
وفي الفتاوى الهندية: ولا يحلق شعر حلقه وعن أبي يوسف رحمه الله لا بأس بذلك ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه مالم يتشبه بالمخنث كذا في الينابيع

وفي حلق شعر الصدر والظهر ترك الأدب كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤۰۷، سعيد).

فتاوی رشیدیہ میں ہے:
۔ ۔ اور پنڈلی اور ران کے بال کا دور کرنا درست ہے کہ آپ علیہ السلام تمام بدن پر سوائے چہرہ کے نورہ کرتے تھے، واللہ اعلم ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۳۰
، اردو بازار، لاہور) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
سینہ اور شکم کے بال منڈانا درست ہے اور رخسار کے بال دفع کرنا ترکِ اولی ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۳۲
)
بہشتی زیور میں ہے:
اس کے علاوہ (یعنی سر، چہرہ، ناک، موئے زیر ناف اور بغل) اور تمام بدن کے بالوں کا مونڈنا، رکھنا دونوں درست ہیں ۔ (بہشتی زیور، حصہ
۱۱
، ص
۹٦۸
) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
سینہ اور پشت کے بال بنانا جائز ہے مگر خلافِ ادب اور غیر اولی ہے ۔ (بہشتی زیور، حصہ
۱۱
، ص
۹٦۷
) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: کیا مرد اور عورتیں اپنی ٹانگوں کے بال ٹخنوں تک منڈوا سکتے ہیں؟
الجواب: ایسا کرنا بہتر نہیں، مگر حرام بھی نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
٤٤٤
، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
فخذ اور ساق وغیرہ کے بال کا حلق جائز ہے بعض کے متعلق تو فقہاء نے صراحۃً لکھا ہے مثلاً عالمگیری، شامی وغیرہ کے کتاب الحظر و الاباحۃ میں ہے:
لا بأس بأخذ الحاجبين وشعر الوجه مالم يتشبه بالمخنث كذا في الينابيع
اور ساق کے بالوں کے متعلق حضرت گنگوہی رحمه الله کے فتاوی میں تصریح جواز بحوالہ حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام بدن پر سوائے چہرہ کے نورہ کرتے تھے ۔ (امداد المفتین:
۲
/
۸۱۷
، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ کیجیے: (فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص
٤۰۷
، ط: مکتبہ بینات، و امداد الفتاوی:
٤
/
۲۲٤
، و کتاب الفتاوی:
٦
/
۱٤۲
،
۱٤۳
، و جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۱۲
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.