مرد و عورت کے لیے بالوں پر مختلف رنگ لگانے کا حکم:

13 min readFatwa Vol 7 #154Urdu
Vol. 7باب (۵): ما يتعلق بأحکام الشعور والختان والخضاب و تقلیم الأظفار

Question

کیا مرد و عورت دونوں کے لیے اپنے بالوں کو مختلف رنگوں سے رنگنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

ابتدائے اسلام میں نبی پاک ﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد آپ ﷺ نے اہل کتاب کی مخالفت کا حکم دیا، اور یہود عام طور پر ڈاڑھی بالکل سفید رکھتے تھے، خضاب نہیں کرتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہود و نصاری خضاب نہیں کرتے تم خضاب کرو ۔
چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں کہ سیاہ خضاب کے علاوہ مہندی وغیرہ کا خضاب مستحب ہے، لیکن خضاب لازم اور ضروری نہیں ہے، کیوں کہ بالوں کو بلا خضاب رکھنے کی بھی بہت ساری روایات موجود ہیں، البتہ فی زماننا نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے بالوں پر زینت کے لیے مختلف رنگ لگاتے ہیں درجِ ذیل چند وجوہات کی بنا پر یہ درست نہیں ۔
(۱) احادیث میں سفید بالوں کے لیے خضاب مذکور ہوا ہے کالے بالوں کو رنگنا تو ثابت نہیں ہے ۔
(۲) اکثر نوجوان مغربی تہذیب کی تقلید میں اپنے بالوں کو رنگتے ہیں ۔
(۳) اس میں ضیاعِ مال اور زیب و زینت اور فیشن میں غلو ہے ۔
(٤) فی زماننا اس میں تشبہ بالکفار و الفساق ہے ۔
بنا بریں نوجوانوں کو اس فیشن اور مغربی تہذیب کی تقلید سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
ہاں سفید بالوں کو مختلف رنگوں سے رنگنا شرعاً ممنوع نہیں ہے، اس کی اجازت ہے فقہاء نے مستحب قرار دیا ہے، بشرطیکہ مذکورہ بالا مفاسد سے خالی ہوں ۔

قال عنبسة بن سعيد: إنما شعرك بمنزلة ثوبك فاصبغه بأي لون شئت. (عمدة القاري: ۱۵/۹۷، باب الخضاب، دار الحديث).

عنبسہ بن سعید فرماتے ہیں: آپ کے بال آپ کے کپڑوں کی طرح ہیں، جس رنگ سے رنگنا چاہو رنگو ۔ یعنی ممنوع رنگ (خالص سیاہ) کے علاوہ ۔
فی زماننا بالوں کو مختلف کیمیکل والے رنگوں سے رنگنے کے نقصانات:
اکثر نوجوانوں کو یہ شوق ہوتا ہے کہ ان کے بال بھورے یا سنہری ہو جائیں، اس سلسلہ میں وہ مختلف ٹیوبیں استعمال کرتے ہیں، خضاب، وسمہ، مہندی کے ساتھ ہائیڈروجن بھی لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے بال وقتی طور پر سنہری اور خوبصورت ہو جاتے ہیں لیکن ان سب رنگوں کا بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بال گرنے شروع ہو جاتے ہیں، یہ عمل بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتا ہے کیوں کہ ان رنگوں میں تیز کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں، نیز قبل از وقت سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور بعض کیمیائی اجزا کے سر میں جذب ہونے کی وجہ سے جسم میں رعشہ اور اعصابی درد شروع ہو جاتا ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (اسلام صحت اور جدید سائنس، ص۱۲۸، ادارۂ اشاعت اسلام) ۔
بعض احادیث میں بلا خضاب سفید بال چھوڑنے کی فضیلت آئی ہے ۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:

عن كعب بن مرة أن رسول الله ﷺ قال: من شاب شيبة في الإسلام كانت له نوراً يوم القيامة. (رواه الترمذي: ۱/۲۹۲). وإسناده قوي.

یعنی اسلام کی حالت میں جس کے بال سفید ہو گئے قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوگا ۔

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله ﷺ قال: لا تنتفوا الشيب فإنه نور المسلم، من شاب شيبة في الإسلام كتب الله له بها حسنة، وكفر عنه بها خطيئة ورفعه بها درجة. (أخرجه الامام أحمد في مسنده، رقم: ٦۹٦۲).
قال الشيخ شعيب: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.

روایت میں آتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بال سفید ہوے تو آپ نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا اے ابراہیم یہ وقار ہے، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے رب وقار کو زیادہ فرما ۔

عن يحيى بن سعيد أنه سمع سعيد بن المسيب يقول: كان إبراهيم عليه السلام أول الناس أضاف الضيف وأول الناس اختتن وأول الناس قص شاربه وأول الناس رأي الشيب فقال: يا رب ما هذا فقال الله تبارك وتعالى وقاراً يا إبراهيم، قال: رب زدني وقاراً. (أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، ص ۵۹۷۵، وابن أبي شيبة في مصنفه، ۲٦۹۹۷).

البتہ چند احادیث میں خضاب استعمال کرنے کا حکم وارد ہوا ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:

(١) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم". (رواه البخاري: ۲/۸۷۵).
(٢) عن أبي أمامة الباهلي يقول: خرج رسول الله ﷺ على مشيخة من الأنصار بيض لحاهم فقال: يا معشر الأنصار حمروا وصفروا وخالفوا أهل الكتاب

الخ. (أخرجه الامام أحمد في مسنده، رقم: ۲۲۲۸۳). قال الشيخ شعيب: إسناده صحيح.

(۳) صحیح مسلم شریف میں ہے:

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضاً، فقال رسول الله ﷺ: "غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد". (رواه مسلم: ۲/۱۹۹).

حضرت نبی پاک ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه کے والد کو فتح مکہ کے موقع پر خضاب لگانے کا حکم فرمایا، اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ سیاہ استعمال نہ کیا جائے ۔
احادیث کے مابین تطبیق:
علمائے کرام نے دونوں احادیث میں درجِ ذیل تطبیق دی ہے:
(۱) جس کی ڈاڑھی بہت زیادہ سفید ہو حضرت ابو قحافہ کی ڈاڑھی کی طرح تو اسے خضاب استعمال کرنا چاہیے، مگر کسی کے بال اتنے زیادہ سفید نہ ہوں خضاب کے بغیر بھی اچھے معلوم ہوتے ہوں تو اس کے لیے خضاب استعمال نہ کرنا بھی درست ہے ۔
(۲) جس علاقہ اور ماحول میں لوگ عام طور پر خضاب استعمال کرتے ہوں وہاں استعمال کیا جائے ۔ اور جہاں رواج نہ ہو اور لگانے کی وجہ سے مرکز توجہات بننے کا اندیشہ ہو تو وہاں استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔
چنانچہ امام نووی رحمه الله فرماتے ہیں:

قال القاضي: وقال غيره "أي غير الطبراني" هو على حالين: فمن كان في موضع عادة أهله الصبغ أو تركه فخروجه عن العادة شهرة ومكروه والثاني: أن يختلف باختلاف نظافة الشيب فمن كانت شيبته تكون نقية أحسن منها مصبوغة فالترك أولي ومن كانت شيبته تستبشع فالصبغ أولي. (شرح النووي على مسلم: ۲/۱۹۹، ط: قديمي). (وكذا في فتح الباري: ۱۰/ ۳۵۵، وأوجز المسالك: ۷/٤۸، وشرح الزرقاني: ٤/۳۳۹، والديباج على مسلم للامام السيوطي: ۵/۱٤۳).

واللہ
گ
اعلم ۔
حضراتِ صحابہ کرام
ث
کا عمل:
حضراتِ صحابہ کرام
ث
کا عمل اس بارے میں مختلف ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه، حضرت عمر
رضي الله عنه،
حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه،
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی الله عنه، اور حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنه، وغیرہ صحابہ کرام
ث
خضاب استعمال فرماتے تھے ۔
اس کے برخلاف حضرت ابی بن کعب رضی الله عنه، سلمہ بن اکوع رضی الله عنه، سائب بن یزید
رضي الله عنه،
مجاہد رحمه الله، طاؤوس رحمه الله، وغیرہ حضرات سفید چھوڑتے تھے، خضاب استعمال نہیں کرتے تھے ۔

وفي الصحيح لمسلم عن أنس رضي الله عنه: وقد خضب أبوبكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه بالحناء والكتم. (۲/۲۵۸).

آثار کی تفصیل کے لیے دیکھیے: (
المصنف لابن أبي شيبة: ۱۲/ ۵۵۷. ۵٦۲، ط: المجلس العلمي).

الغرض دونوں طرح جائز اور درست ہے، البتہ احادیث کی وجہ سے خضاب استعمال کرنا مستحب ہے ۔

قال الإمام محمد رحمه الله في الموطأ: لا نري بالخضاب بالوسمة والحناء والصفرة بأساً، وإن تركه أبيض فلا بأس بذلك، كل ذلك حسن. (الموطأ للامام محمد: ۳۹۲).
وقال الإمام النووي رحمه الله: ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة

والأصح الأوفق للسنة ما قدمناه. (شرح النووي على صحيح مسلم: ۲/۱۹۹).
وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله: ولكن الخضاب مطلقاً أولي، لان فيه امتثال الأمر في مخالفة أهل الكتاب، وفيه صيانة للشعر عن تعلق الغبار وغيره به، إلا أن كان من عادة أهل البلد ترك الصبغ، وأن الذي ينفرد بدونهم بذلك يصير في مقام الشهرة، فالترك في حقه أولي. (فتح الباري: ۱۰/ ۳۵۵).
وفي الدر المختار: يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح

ويكره بالسواد. (الدر المختار: ٦/۴۲۲، سعيد).
وفي رد المحتار: قوله خضاب شعره ولحيته، لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء. (فتاوى الشامي: ٦/۴۲۲، سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: اتفق المشايخ أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة، وأنه من سيماء المسلمين

وعن الإمام أن الخضاب حسن لكن بالحناء والكتم والوسمة. (الفتاوى الهندية: ۵/ ۳۵۹).

خضاب کا رنگ:
کالے رنگ کا خضاب ناجائز ہے اس کے علاوہ کی اجازت ہے تاہم حدیث شریف میں چار قسم کے خضاب کا تذکرہ ملتا ہے:
(۱) مہندی کا خضاب ۔
(۲) کتم کا خضاب ۔ کتم ایک پودا ہے جس کا رنگ سیاہ سرخی مائل ہوتا ہے ۔
بعض صحابہ کرام دونوں کو ملا کر خضاب کیا کرتے تھے تاکہ بال کالے اور سرخ کے درمیان ہو جائیں ۔ ان دونوں خضاب کا مستحب ہونا احادیث سے ثابت ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن أحسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم. (رواه ابن ماجه، ص ۲۵۸، والنسائي: ۲/۲۷۷، ۲۷۸).

(۳) زرد رنگ کا خضاب ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
کا معمول زرد رنگ کے خضاب کے استعمال کا تھا، اور نبی آ کرم ﷺ بھی زرد رنگ استعمال فرماتے تھے ۔ اور آپ کو یہ رنگ تمام رنگوں میں زیادہ پسندیدہ تھا ۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے:

عن زيد بن أسلم قال: رأيت ابن عمر رضي الله عنه يصفر لحيته بالخلوق فقلت: يا أبا عبد الرحمن إنك تصفر لحيتك بالخلوق قال: إني رأيت رسول الله ﷺ يصفر بها لحيته ولم يكن شيء من الصبغ أحب إليه منها ولقد كان يصبغ بها ثيابه كلها حتى عمامته. (سنن النسائي: ۲/۲۷۸، وسنن أبي داود: ۲/۵٦۲).
وفي الصحيح للإمام البخاري: وأما الصفرة فإني رأيت رسول الله ﷺ يصبغ بها، فأنا أحب أن أصبغ بها. (صحيح البخاري: ۱/ ۲۸).

چند صحابہ کرام
ث
کے بارے میں مروی ہے کہ وہ بھی زرد رنگ کا خضاب استعمال فرماتے تھے ۔ چند کے اسماء درج ذیل ملاحظہ کیجیے:
حضرت عثمان غنی رضي الله عنه، حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه، حضرت علی رضي الله عنه، حضرت زید بن وہب رضي الله عنه،

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنه، وغیرہ ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (
المصنف لابن أبي شيبة: ۱۲/۵۵۷. ۵٦۰، ط: المجلس العلمي).

(٤) زعفرانی رنگ کا خضاب ۔

وفي شرح صحيح مسلم للإمام النووي رحمه الله: وخضب بعضهم بالزعفران. (۲/۱۹۹).
وفي سنن أبي داود: عن ابن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ كان يلبس النعال السبتية ويصفر لحيته بالورس والزعفران. (سنن أبي داود: ۲/۵۹۰).

لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ احناف کے نزدیک مرد کے لیے زعفرانی رنگ کا خضاب استعمال کرنا درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ صحیح احادیث میں مرد کے لیے زعفرانی رنگ کی ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ ملاحظہ ہو :

عن أنس رضي الله عنه قال: نهي رسول الله ﷺ أن يتزعفر الرجل. متفق عليه. (صحيح البخاري: ۲/ ۸۷۹، والصحيح لمسلم: ۲/۱۹۸).
قال العلامة العيني: وكره أبو حنيفة رحمه الله والشافعي رحمه الله وأصحابهما أن يصبغ الرجل ثيابه أو لحيته بالزعفران. (عمدة القاري: ۱٤/ ۱۱۱).
وقال الملا على القاري: أن يتزعفر أي يستعمل الزعفران في ثوبه وبدنه؛ لأنه عادة النساء. (مرقاة المفاتيح: ۸/۲۹۷).

ہاں جن صحابہ کرام
ث
سے زعفران استعمال کرنا مروی ہے، وہ قبل النہی تھا ۔ یا ان کو نسخ کا علم نہیں ہوا تھا۔
یا زعفران کا رنگ تھا مگر خوشبو زائل ہو گئی تھی اور مرد کے لیے رنگ و بو دونوں کا جمع کرنا منع ہے صرف زرد رنگ باقی ہو تو یہ منع نہیں ۔ راجع: (عمدۃ القاری للعلامہ بدر الدین العینی رحمه الله) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.