مرد کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرنے کا حکم:
Question
مردوں کے لیے بالوں کو اور ڈاڑھی کو سیاہ مہندی سے خضاب کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ایک شخص اپنے بالوں کو سیاہ خضاب کرتا ہے، اور اپنی بیوی کے جوان ہونے کا اور اپنے بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کا عذر کرتا ہے، اور دلیل میں کہتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ بھی سیاہ خضاب استعمال فرماتے تھے، لہذا برائے مہربانی حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں؟
Answer
ہمارے نزدیک مردوں کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرنا مکروہ تحریمی ہے، روایاتِ کثیرہ میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه کے والد کو آپ ﷺ نے خضاب کا حکم فرمایا اور سیاہ خضاب سے اجتناب کرنے کا حکم دیا، البتہ درجِ ذیل بعض آثار جواز کی طرف مشیر ہیں ۔ ملاحظہ ہو :
واستدل المجوزون بآثار كثير من الصحابة والتابعين، قال ابن القيم رحمه الله في زاد المعاد (۳/۱۸٤): فقد صح عن الحسن والحسين رضي الله تعالى عنهما أنهما كانا يخضبان بالسواد، ذكر ذلك ابن جرير رحمه الله عنهما في كتاب تهذيب الآثار، وذكره عن عثمان بن عفان وعبد الله بن جعفر، وسعد بن أبي وقاص، وعقبة بن عامر، والمغيرة بن شعبة، وجرير بن عبد الله، وعمرو بن العاص رضي الله تعالى عنهم أجمعين، وحكاه عن جماعة من التابعين
الخ. (تكملة فتح الملهم: ٤/۱۵۰).
اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں خالص سیاہ خضاب مراد نہیں ہے بلکہ مخلوط مراد ہے جس کی اجازت ہے، یا صحیح مرفوع روایات میں سیاہ خضاب کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کے مقابلہ میں ان موقوف آثار کا اعتبار نہیں ہوگا ۔ علامہ حموی رحمه الله نے یہ فرمایا کہ، صحابہ کرام مجاہد تھے اور مجاہد کے لیے درست ہے ۔
قال الحموي رحمه الله: وهذا في حق غير الغزاة ولا يحرم في حقهم للإرهاب ولعله محمل من فعل ذلك من الصحابة. (فتاوى الشامي: ٦/۷۵٦، سعيد).
حضرت عمر بن الخطاب رضي الله عنه کے اثر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
إنه كان يأمر بالخضاب بالسواد ويقول: هو تسكين للزوجة وأهيب للعدو. (عمدة القاري: ۱۵/۹۷، باب الخضاب، ط: ملتان)
سیاہ خضاب استعمال کرو کہ یہ دشمن کو خوف زدہ کرنے میں مؤثر ہے ۔
نیز بالوں کے سفید ہونے کے بعد سیاہ خضاب اچھا بھی نہیں لگتا اس کے ساتھ آدمی عجیب سا لگتا ہے ۔
چنانچہ ڈاکٹر ثمرین فرید لکھتی ہیں:
سفید ہوتے ہوے بالوں کو رنگنے کے لیے اچھے اور مناسب معیار کے ہیئر کلر استعمال کریں، بڑھتی عمر کے ساتھ جلد پتلی ہو جاتی ہے اور اس پر کالے رنگ کی ڈائی مناسب نہیں لگتی ۔ (خواتین کی صحت، ص۳٦٦، دار الشعور، لاہور) ۔
سیاہ خضاب کا طبی نقصان:
امریکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق بالوں کو سیاہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے خضاب (ہیئر ڈائی) میں ایک جز شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے کینسر کا مرض لاحق ہو سکتا ہے ۔ آج سے چند برس پہلے کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ایک سائنس داں نے ایسے خضاب کے بارے میں جس خدشہ کا اظہار کیا تھا، آج امریکی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق نے اس کی توثیق کر دی ہے ۔
نیز بالوں کے کیمیائی رنگ اور خضاب سے چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہذا خواتین کو ایسے کیمیائی خضاب کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے، ان کی جگہ مہندی وغیرہ استعمال کر لیں ۔ (اسلام صحت اور جدید سائنسی تحقیقات: ۱۲۸، ادارۂ اشاعت اسلام) ۔
فائدہ:
أول من صبغ لحيته بالسواد ففرعون موسي عليه السلام. (مصنف ابن أبي شيبة: ۱۲/۵۵٦، وعمدة القاري: ۱۵/۹۷، باب الخضاب، دار الحديث ملتان، المرقاة: ۸/۲۳۵، باب الترجل، رشيديه).
یعنی ڈاڑھی پر سیاہ خضاب سب سے پہلے فرعون نے استعمال کیا تھا ۔
مزید دلائل ما قبل میں ذکر کیے جا چکے وہاں ملاحظہ کیے جائیں ۔
البتہ امام ابو یوسف رحمه الله سے ایک روایت ہے کہ جس کی بیوی نوجوان ہو اس کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرنے کی اجازت ہے لیکن اس پر فتوی نہیں دیا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
وروي عن أبي يوسف رحمه الله أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها كذا في الذخيرة. (فتاوى الشامي: ٦/٤۲۲، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۹، والمبسوط للامام السرخسي رحمه الله: ۱۰/۱۹۹، ط: دار الفكر، والمحيط البرهاني: ٦/، الفصل الحادي والعشرون).
واللہ
گ
اعلم ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.