سیاہ خضاب کی تجارت کا حکم:
Question
ایک شخص سیاہ خضاب بنا کر بیچتا ہے کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
Answer
تجارت کے جواز و عدم جواز کے متعلق شریعتِ مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ جس چیز کا جائز استعمال ممکن ہو اس کی خرید و فروخت جائز ہے اور جس چیز کا جائز استعمال ممکن ہی نہ ہو صرف اور صرف معصیت ہی میں استعمال ہوتی ہو تو اس کی تجارت ممنوع اور ناجائز ہے، بنا بریں واضح ہوا کہ سیاہ خضاب کا استعمال جائز مواقع میں بھی ممکن ہے مثلاً جہاد میں کفار پر رعب ڈالنے کے لیے غازی استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح وہ بوڑھا شخص جس کی بیوی جوان ہو تو امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک جائز ہے، نیز کسی نوجوان شخص کے بال کسی عارضہ کی وجہ سے قبل از وقت سفید ہو گئے ہوں تو ازالہ عیب کی خاطر سیاہ خضاب کا استعمال جائز ہے۔
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:
تجارت کے لیے سیاہ خضاب بنانا اور فروخت کرنا جائز ہے۔
لأن الحرمة ليست بقائمة بعينه
ٖ
وإنما الحرمة في الاستعمال إذا استعمله خادعاً ومن شاب قبل أوان المشيب أو خضب لا رهاب العدو في الحرب يجوز له الخضاب بالسواد كما صرح به في الهندية وغيرها.
(امداد الاحکام: ۳/۳۷٦) ۔
محیط برہانی میں ہے:
وأما الخضاب بالسواد: فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ، ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء، وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه عليه عامة المشايخ، وبنحوه ورد الأثر عن عمر رضي الله عنه، وبعضهم جوزوا ذلك من غير كراهية، روي عن أبي يوسف رحمه الله أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها، هذه الجملة من شرح "السير الكبير". (المحيط البرهاني: ٦/۱۲۲، فصل في الزينة، رشيدية).
وفي فتاوى الشامي: قوله ويكره بالسواد، أي لغير الحرب، قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق
الخ. (فتاوى الشامي: ٦/٤۲۲، كتاب الكراهية، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
سیاہ خضاب تیار کرنا اور فروخت کرنا جائز ہے، اس لیے کہ ایک محل اس کے جواز کا بھی موجود ہے یعنی دشمن پر ہیبت بٹھانے کے لیے، لہذا بنانا اور بیچنا خلافِ اولی ہے، مگر ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہیں جس کے متعلق یقین ہو کہ ناجائز طور پر استعمال کرے گا، کما فی رد المحتار وغیرہ ۔ (احسن الفتاوی: ۸/۳۷۵) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
بیع کے بارے میں یہ اصول ہے کہ جس شے کا کوئی جائز استعمال ممکن ہو اس کی بیع جائز ہے چاہے وہ چیز عام طور سے ناجائز کام میں استعمال ہوتی ہو، یعنی اب یہ مشتری کا کام ہے کہ اس کو جائز مقصد کے لیے استعمال کرے، جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تصویر والا کپڑا خریدا تھا آپ ﷺ نے تصویر دیکھ کر ناگواری کا اظہار فرمایا، لیکن بیع فسخ کرنے کا حکم نہیں فرمایا، معلوم ہوا کہ بیع ناجائز نہیں، بعد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور ﷺ کے ایماء پر اس کپڑے کا گدا بنا لیا تھا اور گدے میں اس کو استعمال کیا۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.