پٹاخوں (fireworks) کی تجارت کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #53Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

پٹاخوں کی تجارت جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ مشتری اس کو خرید کر اسراف و ضیاع مال کرے گا، اور فضول خرچی و اسراف از روئے شرع حرام اور ناجائز ہے ۔
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل
۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اسراف اور فضول خرچی حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اس سے بچنا اور توبہ کرنا لازم اور ضروری ہے، اور پٹاخوں کی تجارت مکروہ ہے نفس تجارت میں تضییع مال اور اسراف نہیں ہے بلکہ مشتری خرید کر اس کا استعمال غلط کرے گا، اور شریعتِ مطہرہ کا اصول و قاعدہ یہ ہے کہ حکم کی نسبت مباشر کی طرف ہوتی ہے متسبب کی طرف نہیں ہوتی، اور تاجر صرف سبب کے درجہ میں ہے، لہذا معصیت کا بار مشتری مباشر پر ہوگا، نیز خریدار بھی عام طور پر غیر مسلم ہندو ہوتے ہیں جو کہ فروعی احکام کے مخاطب نہیں ہیں، اس لیے اس قسم کی تجارت کو حرام یا ناجائز نہیں کہہ سکتے، تاہم اجتناب اولی اور بہتر ہے ۔
لیکن پٹاخوں کی تجارت میں آج کل بہت مفاسد اور خرابیاں ہیں: ۔ مثلاً:
(۱) بے فائدہ مال ضائع کرنا اور مال ضائع کرنے میں مسلم و غیر مسلم سب شریک ہیں پاکستان میں عیدین کے موقع پر مسلمان یہ کام کرتے ہیں، اور ہندوستان میں ہندوؤں کے تہوار کے موقع پر ہندوؤں کے دوش بدوش مسلمان یہ کام کرتے ہیں، جو اور زیادہ خطرناک ہے ۔
(۲) پوری فضا بارود کی بدبو اور برے اثرات سے ملوث ہو جاتی ہے ۔
(۳) اکثر حکومتیں اس کی اجازت بھی نہیں دیتیں، اکثر جگہوں میں حکومت کے قانون کی خلاف ورزی کرنی پڑتی ہے، اور پولیس کے ساتھ ساز باز رکھنا پڑتا ہے ۔
(٤) پٹاخوں سے لوگوں کا آرام اور نیند حرام ہو جاتی ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اس لیے اس کی تجارت سے بالکل اجتناب کرنا چاہیے اگر چہ اس کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جا سکتا ۔
(۵) جانوروں کو بھی سخت تکلیف ہوتی ہے، کبھی کبھی پاگل بھی ہو جاتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح مجلہ میں ہے:

قد علمت أن من شروط ضمان المتسبب أن لا يحل بين السبب والتلف فعل فاعل مختار، واشترط محمد رحمه الله أن يكون ذا عقل.
لو فعل أحد فعلاً يكون سبباً لتلف شيء ثم حال بين ذلك الفعل وبين التلف فعل اختياري يعني لو باشر إتلاف ذلك الشيء شخص آخر يكون ذلك الفاعل المباشر الذي هو صاحب الفعل الاختياري ضامناً.
إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر. (شرح المجلة للأتاسي، المادة: ۹۲۲، ۹۲۵، ۱/٤٦۷. ٤۷٤).

شرح القواعد الفقہیہ میں ہے:

إن الفاعل هو العلة المؤثرة، والأصل في الأحكام أن تضاف إلى عللها المؤثرة لا إلى أسبابها الموصلة، لأن تلك أقوى وأقرب، إذ المتسبب هو الذي يتخلل بين فعله والأثر المترتب عليه، من تلف أو غيره فعل فاعل مختار والمباشر هو الذي يحصل الأثر بفعله من غير أن يتخلل بينهما فعل فاعل مختار، فكان أقرب لا ضافة الحكم إليه من المتسبب، قال الرملي في حاشيته على جامع الفصولين (في الفصل ۳۳ صفحة ۱۲٤): إذا اجتمع المباشر والمتسبب فالمباشر مقدم كالعلة، وعلة العلة والحكم يضاف إلى العلة لا إلى علة العلة. (شرح القواعد الفقهية: ٤٤۷، المادة، ۹۰، دمشق).

شمس الدین قاضی زادہ صاحب ہدایہ کی عبارت
"من آجر بيتاً ليتخذ فيه بيت نار أو يباع فيه الخمر"
کے تحت فرماتے ہیں:
إنما صحت عند أبي حنيفة رحمه الله لتخلل فعل فاعل مختار ولأن خطاب التحريم غير نازل في حقه. (نتائج الأفكار، تكملة فتح القدير: ۱۰/٦۰، دار الفكر).

علامہ شامی فرماتے ہیں:

وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب ممن يتخذ منه المعازف. (فتاوى شامي: ٦/۳۹۱، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
شریعت کے فروعی احکام کے مخاطب مسلمان ہیں نہ کہ غیر مسلم اور ان اشیاء کو زیادہ تر غیر مسلم حضرات ہی خریدتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کے لیے پٹاخوں کے کاروبار کی گنجائش ہے، لیکن بچنا بہتر ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲۰٤) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (امداد الفتاوی: ٤/۳۲۲، بعنوانــ "اعانت علی المعصیۃ کی چند جزئیات" ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.