بوقتِ نکاح سیاہ خضاب استعمال کرنے کا حکم:
Question
ایک لڑکی کا ایک معمر شخص کے ساتھ نکاح ہونے والا ہے، لڑکی کا مطالبہ ہے کہ کالا خضاب لگا دو کیا نکاح کی وجہ سے سیاہ خضاب استعمال کرنے کی اجازت ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مذہبِ احناف میں ظاہر الروایہ کے مطابق سیاہ خضاب لگانا مطلقاً مکروہ تحریمی ہے، البتہ مجاہد کے لیے اجازت ہے اور امام ابو یوسف رحمه الله کی ایک روایت کے مطابق مرد کے لیے بیوی کی خاطر سیاہ خضاب لگانے کی اجازت ہے، لیکن مذہب احناف میں اس روایت پر کسی نے فتوی دیا ہو ہمارے علم میں نہیں اور احادیث میں بھی علی الاطلاق ممانعت موجود ہے، لہذا سیاہ خضاب استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔
احادیث کی تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے ۔ فقہاء کی عبارات ملاحظہ کیجیے:
وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه اتفق عليه المشايخ ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة وروي عن أبي يوسف رحمه الله أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۹).
اگر خضاب خالص سیاہ نہ ہو بلکہ مخلوط ہو تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف کی روایت میں ہے ۔
عن أبي ذر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إن أحسن ما غير به الشيب الحناء والكتم. قال أبو عيسى: هذا حديث حسن صحيح. (رواه الترمذي، رقم: ۱۷۵۳).
قال في العرف الشذي: وفي الحديث النهي الشديد عن الخضاب الأسود الذي لا يميز به بين الشيخ والشاب، وأما اختلاط الحناء والكتم فجائز، وزعم الناس أن الكتم والوسمة المتخذة من النيل، وهكذا قال المحشي، والحق أن الكتم تجلب من اليمن وتشدد الاحمرية، لا السواد والوسمة إذا لم تكن أسوداً أشد السواد ويتميز بين الشيخ والشاب فجائزة كما في مؤطا محمد. (۳/۲۵۸، باب ما جاء في الخضاب).
قال الحافظ بن القيم في زاد المعاد: ان النهى عن التسويد البحت فأما إذا أضيف إلى الحناء شيء آخر كالكتم ونحوه فلا بأس به فإن الكتم والحناء يجعل الشعر بين الأحمر والأسود بخلاف الوسمة فإنها تجعله أسود فاحماً
۔
(زاد المعاد: ٤/۳٦۷، مؤسسة الرسالة)
۔
وقال في حاشية فقه السنة: نبات يخرج الصبغة أسود مائلا إلى الحمرة. (ص: ٤۰).
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
بالوں کو خضاب کرنا کسی چیز سے سوائے سیاہ کے سب قسم درست ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۲۸
) ۔
امداد الاحکام میں ہے:
اور فتویٰ اس پر ہے کہ سیاہ خضاب جائز نہیں مگر یہ کہ جہاد میں دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے لگانا جائز ہے، اور امام ابو یوسف رحمه الله سے جو رخصت مروی ہے جیسا کہ عالمگیری اور شامی میں مذکور ہے وہ روایت ضعیف ہے یا مؤول ہے اس خاص صورت کے ساتھ جب کہ کسی کے بال بوجہ مرض قبل از وقت سفید ہو جائے ۔ (امداد الاحکام: ٤/۳٤۷، ۳٤۸) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (امداد الفتاوی: ٤/۲۱۷، فتاوی دار العلوم دیوبند: ۳/۱۱۸، فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۸۷، و احسن الفتاوی: ۳/۲۹٤، و کتاب الفتاوی: ٦/۷۸) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.