چھوٹی بچیوں کے بال کاٹنے کا حکم:
Question
چھوٹی بچیوں کے بال کٹوانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز ہو تو کس عمر تک کٹوا سکتے ہیں؟
Answer
حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله فرماتے تھے کہ چھوٹی بچیوں کے بال کاٹنے کا مقصد بالوں کا بڑھانا ہوتا ہے، اگر اس مقصد سے کاٹے جائیں تو جائز اور درست ہے، البتہ غیر اقوام کے ساتھ مشابہت میں کاٹے جائیں تو ناجائز ہے، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله نے نو سال تک بچیوں کے بال کاٹنے کی اجازت دی ہے۔
لیکن آج کل عام طور پر لوگ مغربی تہذیب کی تقلید میں اپنی بچیوں کے بال کٹواتے ہیں یہ ناجائز ہے اس سے باز آنا چاہیے، اور اس کی علامت یہ ہے کہ بال سب طرف سے برابر نہیں ہوتے بلکہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، اور حدیث شریف کی روشنی میں یہ مکروہ تحریمی ہے۔
حدیث شریف میں سر کے بعض حصہ کے حلق کی ممانعت وارد ہوئی ہے جب کہ بطورِ فیشن ہو۔ ملاحظہ ہو:
روي البخاري بسنده عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ نهى عن القزع
۔
(رقم: ۵۹۲۱، باب القزع)
۔
فتاوی بینات میں ہے:
بالغ اور قریب البلوغ لڑکیوں کے بال کٹوانا جائز نہیں، البتہ ایسی بچیاں جو چھوٹی ہوں، قریب البلوغ نہ ہوں تو خوبصورتی یا کسی جائز مقصد کے لیے ان کے بال کٹوانا جائز ہے تاہم ارادی طور پر کافروں یا فاسقوں کی مشابہت سے بچنا چاہیے۔ (فتاوی بینات:
٤
/
٤۰٦
)۔
امداد الاحکام میں ہے:
قال الطحطاوي في حاشيته على مراقي الفلاح قال في السراج: الصغير جداً لا تكون له عورة ولا بأس بالنظر إليها ومسها، (ص ۱۳۹). وفي الدر: لا عورة للصغير جداً ثم مادام لم يشته فقبل ودبر ثم تغلظ إلى عشر سنين ثم كبالغ. قال الشامي رحمه الله: قوله الصغير جداً قال: وفسره شيخنا بابن أربع فما دونها ولم أدر لمن عزاه، وحد الاشتهاء يعتبر بحال كل صبي وصبية فإذا بلغ حد الشهوة وقدره بعضهم بسبع وبعضهم بتسع وسيأتي في باب الإمامة تصحيح عدم اعتباره بالسن بل المعتبر أن تصلح للجماع بأن تكون عبلة ضخيمة فله حكم البالغين فيجب على الولي أن يأمره بستر العورة هذا ما علمته من كلام الشامي. (۱/٤۲۳).
ان جزئیات سے معلوم ہوا کہ نابالغ لڑکی ستر عورت کے بارہ میں نو/دس سال میں اور جو اٹھان کی زیادہ ہو اور اس کی طرف خواہش ہونے لگی ہو تو اس سے پہلے ہی مثل بالغ کے شمار ہوتی ہے اور عورت بالغہ کو بلا عذر قوی کے سر منڈانا جائز نہیں تو جو لڑکی بالغ ہے اس کا بھی یہی حکم ہوگا اور مناسب یہ ہے کہ جب لڑکی نو برس کی ہو جائے گو قابل شہوت نہ ہوئی ہو اس کا سر نہ مونڈا جائے کیوں کہ یہ اٹل مدت اس کے بلوغ کی ہے الخ۔ (امداد الاحکام:
٤
/
۳٤۱
، لڑکی کا سر منڈانا کس عمر تک جائز ہے)۔
مجموعہ فتاوی برائے خواتین میں ہے:
چھوٹی بچیوں کے بال بھی بطورِ فیشن کاٹنا ممنوع ہے۔ (مفتی عبد الرحیم لاجپوری)۔ (مجموعہ فتاوی:
۲
/
۵۳۱
، مرتب مولانا مفتی ثناء اللہ محمود صاحب، ط: دار الاشاعت)۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.