قربانی پر قادر ہونے کے باوجود افراد کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #293Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۳): قران، تمتع اور افراد کا بیان

Question

ایک مالدار شخص اپنی بیوی، دو بیٹیاں اور ایک بہن سمیت حج افراد کے لیے گیا، واپسی پر کسی عالم کا قول ذکر کیا گیا کہ حج افراد صرف غریبوں کے لیے ہے، جب اس نے بذاتِ خود اس عالم سے دریافت کیا تو عالم نے کہا کہ ابتداء اسلام میں وہ لوگ افراد کرتے تھے جو قربانی پر قادر نہیں ہوتے تھے اب یہ شخص جاننا چاہتا ہے کہ کیا حج افراد صرف غریبوں کے لیے ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اس عالم صاحب کا یہ کہنا درست نہیں ہے، بلکہ قربانی پر قادر حضرات بھی حج افراد کر سکتے ہیں، ہاں اس میں شک نہیں ہے کہ احناف کے نزدیک قران سب سے افضل ہے لیکن افراد بھی سب کے لیے مشروع ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح لباب میں ہے:

القران أفضل من الإفراد أي بالحج والتمتع والأولى أن يقول أفضل من التمتع والإفراد لأن التمتع عندنا أفضل من الإفراد خلافاً لما لك رحمه الله، والشافعي رحمه الله حيث قالا: إن الإفراد أفضل مطلقاً. (لباب المناسك مع شرحه: ۲۸٤، باب القران، بيروت).

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما بيان ما يحرم به فما يحرم به في الأصل ثلاثة أنواع الحج وحده والعمرة وحدها والعمرة مع الحج وعلى حسب تنوع المحرم به يتنوع المحرمون وهم في الأصل أنواع ثلاثة مفرد بالحج ومفرد بالعمرة وجامع بينهما فالمفرد بالحج هو الذي يحرم بالحج لا غير والمفرد بالعمرة هو الذي يحرم بالعمرة لا غير. (بدائع الصنائع: ۲/۱٦۷، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.